ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
تھا اور یہی حالت اب تک ہے۔ ان مضامین کو دیکھ کر ارمان پیدا ہوتا تھا کہ کاش یہ علوم مجھ کو بھی حاصل اور محفوظ ہو جائیں کیونکہ حضرت نانوتوی مرحوم کی تحقیقات نہایت ہی بلند پایہ اور مفید ہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی قدس سرہ العزیز کی تصانیف میں بھی تحقیقات او رحکمتیں بھری ہوئی ہیں اور نہایت مفید اور بلند پایہ ہیں ،مگر مجھ کو جو طمانیت اور بلندپائیگی حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ کی تصانیف میںملتی تھی وہ وہاں نہ تھی۔ اگرچہ تحقیقات کے انتہائی بلند پایہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مضامین سمجھ میں آنے دشوار ہوتے تھے اور چند صفحوں کے مطالعہ کے بعد طبیعت تھک بھی جاتی تھی اور بہت سی باتیں سمجھ میں بھی نہیں آتی تھیں ، تاہم ان سے بہت سکون اور شرح صدرہو جاتا تھا ''۔ اس سے ایک سطر بعد تحریر فرماتے ہیں : ایک روز بہت غلبۂ شوق پیداہوا اور ان علوم کے حاصل ہونے کی رغبت اس قدر زیادہ ہوئی کہ مواجہہ شریفہ نبویہ علی صاحبہا الصلٰوةوالتحیة میں حاضر ہو کربہت رویا اور ان علوم کے حاصل ہونے کی درخواست واستدعا کرتا رہا اور اپنی بے بضاعتی اور جہالت کا شکوہ بھی کیا ۔دیر تک اسی حالت گریہ میں رہ کر واپس ہوا تو چند قدم ہی چلا تھا کہ یکا یک قلب میںواقع ہوا لا تقنطوامن رحمة اللّٰہ ''(نقشِ حیات ص ٩٩)۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مناسبت نہایت درجہ طبعی اور منجانب اللہ تھی کہ خداوند کریم نے وفات کے بعد تدفین ایسے نصیب فرمائی ہے کہ حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ کی قبر مبارک سے متصل (بالکل ملی ہوئی) ایک قبر کی جگہ نکل آئی جس کا کسی کو وہم وگمان بھی نہ تھا کہ یہ جگہ ایک قبر کی ہو سکتی ہے۔ وہ بہت چھوٹی معلوم ہوتی تھی اور شاید اسی لیے خالی چلی آرہی تھی اور چھوٹی نظر آتی تھی۔ حضرت شیخ الہند تو اس طرح مدفون ہیں کہ حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہم کی پشت ہے اور آپ کا چہرہ ہے ۔ اور حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ حضرت نانوتوی قدس سرہ کی خاص پائتی میں ہیں ۔ آپ کا سر مبارک ان کے پائوں کے قریب ہے۔ (جاری ہے)