ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
ہو کر پورے عزم و استقلال کے ساتھ تحصیل علم کی منزل کی جانب رواں دواں نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ان میں اکثر طلبہ غربت کی سطح سے متعلق ہوتے ہیں لیکن بہت سے طلبہ گھرکے اعتبار سے صاحب ثروت و دولت ،تجارت ،پیشہ ،کارخانے دار اور ہر طرح کی مادی سہولیات سے مالا مال ہوتے ہیں ۔لیکن وہ بھی تحصیل علم کے شوق میں اپنے وطن کا عیش و آرام یکسر قربان کرکے مدرسہ کی معمولی زندگی کو سینے سے لگا لیتے ہیں اور بغیر کسی امتیازی رکھ رکھاؤ کے تمام طلباء میں گھل مل کر شانہ بہ شانہ بیٹھے نظر آتے ہیں ۔ غریب طلبہ کے لیے یہ شب وروز زیادہ پر یشان کن نہیں ہوتے ہیں جو طلبہ اپنے گھر امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ قربان کرکے مدارس کی چہار دیواری میں ٹوٹی ہوئی چٹائی اور پھٹی ہوئی بوریوں پر آپڑتے ہیں ، یقینًا ان کے لیے کسی مجاہدہ نفس سے کم نہیں لیکن وہ طلباء کسی تنگی کو خاطر میں نہ لا کر بس علوم قرآنیہ کو حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں اور وطن کے عیش وآرام کو بھول جاتے ہیں ۔ فجزا ہم اللہ۔ غرض جب یہ بات صاف ہو گئی کہ مدارس میں قیام پذیر طلباء و اساتذہ دنیا سے بیزار فکر آخرت سے سرشار ہو کر علوم دینیہ کی تحصیل میںلگے رہنا اپنا مقصد اصلی اور مدارس کے قیام کانصب العین سمجھتے ہیں ۔تو پھر ان کے حق میں بہتری یہی ہے کہ یک سوئی اور استحکام کے ساتھ علوم اسلامیہ کو حاصل کرنے میں جڑے رہیں۔کسی اور کام میںمصروف ہونا زبردست نقصان کا پیش خیمہ ہے۔ آگے اس پہلو پر ایک نظر ڈالتے ہیں اگر ان مدارس میں علوم اسلامیہ کے ساتھ عصری علوم کو بھی شامل کر لیں تو ہمیں اس سے ترقی کہاں تک ملے گی یہ تو ہم بعد میں واضح کریں گے۔اولاً ہم اس کی وضاحت کرتے چلیں کہ علوم دینیہ کے حصول میں کتنے تنزل و انحطاط سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اولاً : عصری علوم کے مضامین جب شامل نصاب کریں گے تو ظاہرسی بات ہے کہ مدرسہ کے اوقات تعلیم کے چھ گھنٹوںمیں سے ایک دو گھنٹہ سے زیادہ اس سمت میں کام نہیں ہو سکتا، لازمی طورپر اتنے وقت کے لیے دینی تعلیمی سرگرمیاں موقوف کرنی پڑیں گی ۔یعنی ایک انداز ہ کے مطابق تیس فیصد دینی تعلیم کم کرنی پڑے گی ۔اس کا نتیجہ یہ ہو گاکہ سو فیصد وقت دینے سے علم میں جو گیرائی اور گہرائی پیدا ہو سکتی ہے اس میں تیس فیصد کمی آجائے گی(اور اس دورِ انحطاط میں تو سو فیصد وقت لگانے سے بھی تسلی بخش اور خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے) جب طالب علم تیس فیصد علمی استعدادسے محروم ہوکر فراغت کے بعد قوم کے سامنے پہنچے گا او ر کوئی مسئلہ حل کرنے کا موقع آئے گا تو عین ممکن ہے کہ استعداد میں کمی کے باعث وہ مسئلہ اس کی دسترس سے باہر ہو اور اپنی بے بسی کااظہار کرتے ہوئے معذرت کا پہلو اختیار کر جائے ۔ پھر تو قوم کی لب کشائی اور طعن و تشنیع کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ لو میاں آٹھ نو سال مدرسہ میں خاک ساری کی اور اتنا وقت لگا کر آ گئے