ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
گی۔فرمایا نہیںبلکہ تمام دنوں کے برابر نمازوں کا اندازہ کر کے نمازیںادا کرتے رہنا (کیونکہ غالباً اس دن کی طوالت دجال کی محض شعبدہ بازی ہوگی ورنہ سورج فی الواقع اپنے وقت پر طلوع و غریب ہوتا رہے گا )ہم نے پوچھا وہ کس رفتار سے زمین میں گھومے گا ؟فرمایا اُس تیز رفتار بادل کی طرح جس کو پیچھے سے ہوا ا ُڑا ئے لا رہی ہو (ممکن ہے کہ اس کو آج کے دور کی تیز رفتار سواریوں کی طرح کی یا ا ن سے تیز رفتار سواریاں حاصل ہوں یا اس کے ساتھ خرق ِعادت کا معاملہ ہو) وہ کچھ لوگوں کے پاس آکر اپنی خدائی پر ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے وہ خوش ہو کر آسمان کو بارش کا حکم دے گا فوراً بارش آجائے گی اور زمین کو حکم دے گا اسی وقت وہ سبز ہ زار ہو جائیگی اورشام کو جب ان کے حیوانات (چراگاہوں سے )چرکر واپس ہوں گے تو ان کے اُونٹوں کے کوہان پہلے سے زیادہ لمبے لمبے اُن کے تھن پہلے سے زیادہ دودھ سے لبریز او ر ان کی کوکھیںپہلے سے زیادہ تنی ہوئی ہوں گی۔ اس کے بعد وہ کچھ او ر لوگوں کے پاس جائے گا اور ان کو بھی اپنی خدائی کی دعوت دے گا مگر وہ اس کو نہ مانیں گے ۔جب وہ ان کے پاس سے واپس ہو گا تو یہ سب قحط میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے قبضہ میں کوئی مال نہ رہے گا (سب دجال کے ساتھ چلاجائے گا )پھر وہ ایک ویران زمین سے گزرے گا اور اس کو یہ حکم دے گا ''اپنے تمام خزانے باہر اُگل دے''۔ وہ سب کے سب خزانے اس کے پیچھے اس طرح ہولیں گے جیسے مکھیوں کے سردار کے پیچھے پیچھے سب مکھیاں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص کو بلائے گا جواپنے پورے شباب پر ہو گا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کرکے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور پھینک دے گا جتنا تیر انداز اور اس کے نشانہ لگانے کی جگہ کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے پھر اس کو آواز دے کر بلائے گا وہ (زندہ ہو کر ہنستاکھلکھلاتا ہوا چلا آ ئے گا) اور کہے گا کہ یہ خدا کیسے ہو سکتا ہے لیکن دجال اس کو دوسری مرتبہ قتل نہ کر سکے گا ) اِدھر دجال شعبدہ بازیاں دکھا رہا ہو گا اُدھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا وہ دمشق (کی مسجد )کے مشرقی (یا دمشق کے مشرق میں بیت المقدس کے کسی ) سفید منار ہ پر اتریں گے اور دو زعفرانی رنگ کی چادریں اوڑھے ہوئے دو فرشتوں کے بازوئوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے سر جھکائیں گے تو پانی کے قطرے ٹپکتے معلوم ہوں گے اور جب سراُٹھائیں گے تو بالوں میں چاندی کے سے موتی محسوس ہوںگے۔ جس کافر کو ان کے سانس کی ہوالگ جائے گی وہ زندہ نہ رہ سکے گا اور ان کے سانس کا اثر اتنے فاصلے تک پڑے گا جہاں تک کہ ان کی نظر جائے