ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
بوجھ نہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔ کیا اس طرح کے خاص خاص کام میں مصروف افراد کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی اور کام کی شدھ بدھ نہ ہونے کی وجہ سے اہل زمانہ کے شانہ بہ شانہ چلنے کے قابل نہیں ہیں۔فلسفہ یہی کہتا ہے کہ جو شخص اپنی کسی بھی خاص مصروفیت سے جُڑا ہوا ہو تو اس کو دوسرے کاموں کی طرف توجہ اور ترغیب دلانا اور اس میں پیش قدمی کی دعوت دینا اس کے لیے ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ اپنے کام میں پورے ا نہماک سے جُڑا رہے ،تقسیم کا رکایہ نظام فطری اور طبعی ہے جوپوری کائنات کو محیط ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دینی مدارس خالص علوم اسلامیہ کے مراکز ہیں عصری علوم ان کے مقاصد اور نصب العین میں شامل ہی نہیںہیں ۔یہاں کام کرنے والے اساتذہ اور پڑھنے والے طلبہ کے پیش نظردنیا طلبی کاکوئی نقشہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اساتذہ کا جائزہ لیجئے ! ضابطہ کے صرف چھ گھنٹے کی تعلیم پوری کرکے طلبہ سے کلیةً بے نیاز نہیں ہو جاتے بلکہ اپنے خارجی اوقات کو بھی ان طلبہ کے لیے فری رکھتے ہیںاور اپنا پورا وقت صرف کرتے ہیںاور بہت معمولی تنخواہ پر قناعت بھی کر لیتے ہیں ،جبکہ وہ کسی اور کام میں لگ کر اپنی تنخواہ سے کئی گنازائد آمدنی کر سکتے ہیں ۔لیکن ایسا سوچتے بھی نہیں،بہت ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے ادارے کے ذمہ دار ان زائد تنخواہ اور وسیع سہولیات کی پیش کش کرکے اپنے یہاں کام کرنے کی ان کو دعوت دیتے ہیںلیکن اساتذہ عموماً اس طرح کی پیش کش کو خاطر میں نہ لا کر معمولی تنخواہ پر ہی اپنی جگہ پڑے رہتے ہیں اور زندگی گزار دیتے ہیں ۔ایسا بھی دیکھنے سننے میں آیا ہے کہ دور افتادہ گائوںدیہات ، جہاں جہالت وضلالت بدعات و ظلمات اور کفر وارتداد کا دوردورہ ہوتا ہے وہاں تعلیم کی شدید ضرورت محسوس کرتے ہوئے شہری مدارس کی ملازمت کو خیر باد کہہ کر اس سے کم تنخواہ پر گائوں کی ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ واقعہ ہے اس طرح کے حیرت انگیز واقعات سے اسلاف واکابر کی زندگی بھری پڑی ہے تفصیل کا وقت نہیں ۔ مدارس کے طلبہ کے عزیز کو دیکھئے ! طلب علم کے جذبہ شوق میں اپنے والدین کی شفقت ،احباب واعزء کا پیار و محبت ، بچپن میں کھیلی ہوئی مادروطن کی پُر پیچ پیاری گلیاں اور وہاںکی من پسند قدرے آزاد زندگی کے شب و روز، غرض طبعی زندگی تمام تر آسائشوں اور سہولیات کو قربان کرکے معمولی سامان ِسفر اور مختصر سی ضرورت کی چیز ساتھ لے کر قریب یا دور کے کسی ادارہ میں جا پڑتے ہیں اور پھر وہاں کی شرعی قانونی حد بندیوں میںمحصور ہو کر تحصیل علم میں منہمک ہو جاتے ہیں جبکہ قدم قدم پر دشواریاں کھڑی ہوتی ہیں ۔کبھی پیسوں کی تنگی ،اشیاء خوردنی کی قلت اور کبھی بیماریوں کا تعاقب وغیرہ وغیرہ ۔ اور ایسے میں کہ نہ وہاں والدین کا تعاون ہوتا ہے ، نہ بھائیوں کا سہارااور نہ احباب کے مشورے ،بلکہ تمام مراحل ازخود ہی طے کرنے پڑتے ہیں ۔ لیکن ان مسائل و عوائق کو خاطر میں نہ لاکرتمام مخالف و نامساعد مراحل سے بے نیاز