ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
عتراضات کی چھینٹیں اُڑتی ہوئی نظر آ رہی تھیں اس لیے اس زاویہ اور تعلق سے موصوف کی بات پر جو باتیں سامنے آئیں ، وہ قدرے شرح و بسط اور مناسب وضروری ترمیم و تضمین کے ساتھ کچھ اس طرح تھیں : جناب سنئے ! مسلمانوں کی دنیا میں دو طر ح کی ضروریات ہیں ،کچھ تو دینوی ہیں اور کچھ اخروی ہیں اور ان دونوں کی بہت سی فروعات ہیں جو احاطۂ تعداد و شمار میں نہیں آسکتیں ۔اُخروی ضروریات ہمارے لیے نمبر ایک کی چیز ہے اور دنیوی ضروریات نمبر دو کی ۔مدارس کا قیام او ر اُن کا نصاب تعلیم اُخروی ضروریات کے لیے وضع کیے گئے ہیں دنیوی ضروریات کی تکمیل کے لیے نہیں ۔ دیگر ایں کہ اپنی دینی اور دنیاوی ضروریات کی تکمیل میں کوئی فرد بشر دوسرے سے استعانت سے بے نیاز نہیں ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا انسان نظر نہیں آتا جو تمام اسباب معیشت اپنے گھر میں از خود تیار کرکے تمام ضروریات کی تکمیل سے آسودگی حاصل کر لیتا ہو ۔ نہ ہی کوئی ایسا فرد بشر نظر آتا ہے جو ترقیات کے مینارہ کو چھولینے کے باوجود یہ دعوٰ ی کر سکے کہ ہمیں دنیا میں کسی سے استعانت کی ضرورت نہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدم قدم پر انسان کو انسان سے تعاون کے لیے انتہائی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس کی معقول وجہ یہ ہے کہ انسان کی جسمانی طاقت اور اس کی نقل و حرکت انتہا ئی محدود ہونے کی وجہ کے مزاج اور ماحو ل کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنے لیے کسی خاص مصروفیت کی تعیین کر لیتا ہے اور وہ اسی کی نوک پلک سنوارنے اور اسی کو ترقی دینے کی دھن میں رات دن ایک کیے رہتا ہے اور دیگر تمام انواع ِمشاغل سے کلی طور پر صرف نظر کر لیتا ہے او ر اسی میں اس کی کامیابی کا را ز مضمر ہے۔مثلاً دینی ضرورت کو لے لیجیے ! تحفیظ القرآن کا وہی استاذ کامیاب مانا جاتا ہے جو دیگر مصروفیات سے الگ رہ کر شبانہ روز قرآن کی تعلیم پر محنت کرتا ہو ،ایک مفتی کو فتوٰی نویسی میں اسی وقت عبور کمال حاصل ہوتا ہے جب کہ چوبیس گھنٹہ کتابوں کے انبار میں گھر کر ورق کی چھان بین کرتا رہے ۔عربی کا استاذ اپنی تعلیم کو طلباء کے لیے قابل اعتماد اور مستحکم اسی وقت بنا سکتا ہے جب کہ کتابوں کے مطالعہ میں گیرائی اور گہرائی کی آخری حد کو چھو لینا اپنا نصب العین بنا لے اور دیگر مشاغل سے کلیةًصرف نظر کرلے ۔علی ہذا القیاس ! دنیاوی ضروریات کو دیکھئے ! ایک دکاندار اپنی دُکان چمکانے اور بڑھانے کے علاوہ کسی اور کام کی تگ و دو میں اتنا زبردست نقصان سمجھتا ہے حتی کہ اعزاء اقارب کی شادی بیاہ میں شرکت کرنا بھی اس کو ناگوارخاطرہوتا ہے ۔ریلوے کے ملازم کو کٹر امنڈی میں آٹے دال چاول کی قیمت میں اتار چڑھائو اور اشیاء کی بھرتی اور نکاسی کے مواقع اور اوقات سے کچھ لینا دینا نہیں ۔اسکول کے ٹیچروں کو بلڈروں کے سریہ ،سیمنٹ ، بجری ،بجر فٹ اور مزدوروں کی سیٹنگ کی قطعاً کوئی سوجھ