ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
بنی اسرائیل کے مال واولاد کی کثرت کو خصوصی احسان کے پیرائے میں قرآن یوں ذکر کرتاہے : وامددنٰکم باموال وبنین وجعلنٰکم اکثرنفیرا ۔(بنی اسرائیل: ٦) بہت سی آیات قرآنی میں مال کو فضل اور خیر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے جن سے مال کا مستحسن ہونا ثابت ہو تا ہے۔ انسانی زندگی میں مال کی کتنی اہمیت ہے ، رسول اللہ ۖ نے اس کو خوبصورت انداز میں یوںبیان فرمایا ہے : نعما بالمال الصالحا للرجل الصالح (مشکٰوة ٣٢٦ ) نیک آدمی کے لیے اچھا مال بہت ا چھی چیز ہے۔ اسی لیے مال کی حفاظت بھی ضروری ہے اور اس تعلق سے مصائب سے دوچار ہونا مستحسن بتایا گیا ہے۔ من قتل دون مالہ فھو شہید (بخاری شریف ١/٣٣٧) جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے (چوروں،ڈکیتوں وغیرہ سے مقابلہ کرنے میں ) مقتول ہو جائے تو وہ (ثواب کے اعتبار سے )شہید ہے۔ حضرت سفیان ثوری نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ''سابق ز مانہ میںمال کو پاس میں جمع رکھنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ مال مومن کی ڈھال ہے''۔ غرض قرآن واحادیث اور اقوال سلف میں حلال مال کے متعلق بہترین تصور پیش کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کسب حلال کے لیے شریعت مطہرہ میں مستحکم عالمگیر اصول بھی مرتب کیے گئے ہیں جو دینی فقہی تعلیمات کا سنہرا اور بہترین ذخیرہ ہیں ۔اور اُمّت کے ہاتھوں میں بطورامانت عملی طور پر محفوظ ہیں اور ان پر اُمّت کو بجاطور پر فخر ہے۔ اس کے بر خلاف کسی اور مذہب میں اقتصادیات کے تعلق سے کوئی مرتب اصول نہیں ملتا ۔لازماًاہل مذاہب خود ہی اپنے تئیں مزاج ،ماحول اور اس کے تقاضوں سے متاثر ہو کر کسب معاش کے لیے نظریات کا اختراع کر کے بیع و شرا ء اور اس جیسے معاملات کی ضرورت پوری کر لیتے ہیں ۔ جو غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے آئے دن بدلتے رہتے ہیں ۔پھر یہ بھی کہ ان اختراعی نظریات کو جو شخص اپنے لیے سود مند سمجھتا ہے وہ تو ان کو قبول کر لیتا ہے اور جو غیر مفید سمجھتا ہے ان کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے۔ لیکن اسلام کے اقتصادی زریں اصول اتنے مستحکم ہیںکہ چودہ سو برس سے زائدعرصہ دراز سے وہ ہر زمانہ میں بغیر اصولی ترمیم اور ردو بدل کے اُمّت مسلمہ کے لیے مشعل راہ بنے ہوئے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ مسلمان پوری جرأت ایمانی کے ساتھ اپنے نفع و ضرر کو ان زریں اصولوں کے تابع رکھتے ہیں ۔اصول کو نفع و ضرر کے تابع نہیں رکھتے ۔ حاصل یہ کہ اسلامی نقطہ نظر سے اقتصادی ضروریات کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ البتہ موصوف ہم سفر کی باتوں سے اسلامی تعلیمات سے بیزاری کے آثار عیاں تھے اور ان کے الفاظ سے مدارس کے طرز تعلیم اور نصاب تعلیم پر