ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
¾اكستان Ù |
|
عشق کی دوسری منزل شروع ہوئی ۔دوسری منزل یہ ہے کہ محبوب کے درودیار کی طرف توجہ کی جائے ۔جہاں ا س کا کوچہ ہے، جہاںاس نے دوسروں کو نوازا ہے وہاں جایا جائے ۔اس کے درو دیوار کے پاس پہنچا جائے اور جمالِ محبوب کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔اس کے گھر کے ارد گرد یوانہ وار پھرا جائے اس کے درودیوار سے چمٹ کر اس کے سنگِ درکو بوسہ دیا جائے اَمُرُّ عَلَی الدِّیار دیَارِ لَیْلٰی اُقَبِّلُ ذَاالْجِدَارِ وَ َذَاالْجِدَارَا وَمَا حُبُّ الدیار شغفن قلبی وَلَکِنْ حُبُّ مَنْ نَزَلَ الدِّےَارَا مجنوں کہتا ہے کہ میں دیارِ حبیب میں جب پہنچتا ہوں تو اس کے درو دیوار کو بوسہ دیتا ہوں اور مجھ کو ان درو دیوار نے مجنوں نہیں بنایا بلکہ گھر والے نے من نزل الدیارا نے مجنوں بنایا ہے۔ جس قدردیار ِ محبوب سے قریب تر ہوتے جائو آتش شوق بھڑکتی جائے وعدۂ وصل چوں شود نزدیک آتشِ عشق تیز تر گردد عاشق کوکہاں زیبا ہے کہ عشق ہو اور لوگوں سے لڑے جھگڑے ،اس پر شہوت کا غلبہ ہو اور معشوق کی نافرمانی کا صدور ہو ۔فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج ۔عاشق ہمیشہ سرنگوں رہتاہے عشق کا تقاضا ہے کہ کسی امر میں کسی سے لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ اگر سچا عشق اور سچی محبت لے کرنکلے تو ہر چیز سے بالاتر ہوکرمحبوب سے لپٹ جائو۔ میرے بھائیو ! اللہ پاک کے گھر کی طرف جارہے ہو ۔اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آئیں گی ۔ہمیشہ لڑائی جھگڑے سے بچتے رہو اور یہ ہمیشہ یاد رکھو کہ خدائے پاک مجھ کو دیکھ رہا ہے ۔وہ تمہارے ہر حال کو دیکھتاہے ۔اسی کا نام لیتے ہوئے لبیک اللّٰھم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک۔ان الحمد والنعمة لک والملک، لاشریک لک کہتے ہوئے چلو ۔یہ آواز بلند کرتے ہوئے اللہ پاک کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے تواضع و سکون کے ساتھ چلو ۔جس قدر ممکن ہو صبح وشام دوپہر چڑھتے ہوئے اُترتے ہوئے، ہرحال میں لبیک اللّٰھم لبیک الخ پڑھتے رہو ۔لا شریک لک بار بار کہا جاتا ہے سوائے تیرے ہمارا کوئی محبوب نہیں ۔ سلے ہوئے کپڑے اُتار دو ،خو شبو بھی ترک کرد و، دوکپڑے بغیر سلے ہوئے پہن لو ، سر کو ننگا رکھو ،جوتاپہنو ، مگر پیر کے اوپر کی ہڈی اُبھری ہوئی چھپنے نہ پائے ۔ سرمہ نہ لگائو ،خوشبو نہ لگا ئو ،بالوںکو نہ سنوارو،نہانا ضرورتِ شرعیہ سے جائز ہے