ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
¾اكستان Ù |
|
ضرورت ہے ۔اس میں ذرا سی بھی بے ادبی ہو گی تو عتاب ہو گا ۔اسی طرح محبوبیت کا تقاضا ہے کہ محبوب ومحب کے طریقہ پر عمل کی جائے موسیا آدابِ داناں دیگر اند سوختہ جاں ور داناں دیگر اند محبت کا تقاضا یہ ہے کہ بے خودی پیدا ہوجائے ۔اس راہ میں جتنی بے خودی ہوگی اتنا ہی کمال ہوگا عشق چوں خام است باشد بستہ ناموس و ننگ پختہ مغزانِ جنوں راکے حیا زنجیر پاست محبت کا تقاضا یہ کہ اپنی عقل ،نزاکت ،آراستگی اور ہوش سے نکل جائے عشق جب پورا ہوگا کہ اپنے آپ کوپروانے کی طرح محبوب پر نثار کردے اے مرغِ سحر عشق ز پَروانہ بیا موز کاں سوختہ جاں شدو آواز نیامد عشق میں جس قدر بے خودی پائی جائے اسی قدرمحمود ہے ۔ع عاشقاں را مذہب و ملّت جُدا است جب پیت بھئی تب لاج کہاں سنسار ہنسے تو کیا ڈر ہے دُکھ درد پڑے تو کیا چنتا اور سکھ نہ رہے تو کیا ڈر ہے انسان جو کہ اشرف المخلو قات ہے اس کے اندر ایسا عشق ہونا چاہیے جو نہ بُلبل میں نہ پروانے میں ۔اور نہ کسی کو ایسا عشق نصیب ہو ۔ میرے بزرگو! روزہ اور حج یہ دو عبارتیں صفتِ محبوبیت کی بنا ء پر مقرر کی گئیں او رنماز وزکٰوة صفتِ مالکیت کی بنا پر ۔اب دیکھو اگر کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے پھر دوسروں سے بھی محبت رکھتا ہے تو ا سے جھوٹا کہتے ہیں ۔محبوب کے علاوہ سب کو چھوڑ دینا محبت کا تقاضا ہے فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادة ربہ احدا۔ اللہ تعالیٰ کا جمال گوارا نہیں کرتا کہ دوسرے سے بھی محبت کی جائے۔ پہلی منزل محبت کی ہے کہ محبوب کے سوا سب سے منہ پھیر لو ۔روزہ میں کھانا پینا اور بیوی سے ہم بستر ی کو چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ عام لوگوں کے لیے ہے ۔مگر خواص کا روزہ یہ ہے کہ تما م گناہوں کو چھوڑ دیں اور اخص الخواص کا روزہ یہ ہے کہ ذاتِ مقدسہ کے سوا سب کو چھوڑ دیں ۔غیر اللہ کو سامنے بھی نہ لائیں۔یہ عشق کی پہلی منزل ہے رمضان گزرا شوال سے