ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
¾اكستان Ù |
|
خوشبو لگانا ،بالوں کو اکھیڑنا ،سنوارنا جائز نہیں،شکارمت کرو ۔غرض کہ دیوانوں کی صورت بنائو ۔یہ چیز یں تو اس کے لیے ہیں جو ہوش و حواس میں ہو عشاق کو اتنا ہوش کہاں نو بہار است جنوں چاکِ گریباں مددے آتش افتاد بجاں جنبشِ داماں مددے ہم نے تو اپنا آپ گریباں کیا ہے چاک اس کو سِیا سیانہ سیا پھر کسی کو کیا عشق میں تیرے کوہِ غم سرپر لیا جو ہو سوہو عیش ونشاطِ زندگی چھوڑ دیا جو ہو سوہو جس قدرمکہ معظمہ سے قریب ترہوتے جاؤ دیوانگی اور جنوں کے آثار بڑھتے جائیں ۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ مکہ معظمہ او رخانہ کعبہ میں آثارِ صفتِ جمالیہ ظاہر ہیں ۔ ہم کورے ان بزرگوں کی اطاعت اور پیروی میں جو یہ آثار دیکھتے ہیں اللہ کے گھر کے گرد سات چکرلگاتے ہیں ۔صفاو مروہ کے درمیان دوڑتے ہیں ۔ بہر حال یہ عبادت مظہرِ عشق ہے او ر اللہ تعالیٰ محبوب، اس کے اندر اسبابِ محبت باتم الوجوہ پائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی حقیقةً محبوب ہیں ۔یہ حج اسی لیے فرض کیا گیا ہے کہ اسی محبوب حقیقی کے پروانے بنو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کر دیا ۔عاشق کو عشق کی راہ میں کوئی نصیحت کرتا ہے تو اس کو غصہ آتا ہے اور وہ ناصح کو پتھر مارتا ہے جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جان کی قربانی دینے جارہے تھے تو راستہ میں تین جگہ ناصحِ نادان شیطان نے سمجھایا ،باپ کے ساتھ کہاں جا رہے ہو ؟ اُنہوں نے پتھر مارے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح ہونے سے بچا لیااو ر جنت کے مینڈھے کوذبح کرا دیا ۔یہ ا ب شریعت ہے کہ مینڈھے اور دُنبے کو ذبح کرنا گویا بیٹے کو ذبح کرنا ہے ۔(رونے کی آواز ) اللہ تعالیٰ کا عشق لے کر جا رہے ہوتو جس قدر ممکن ہو عجز او ر انکسار اختیار کرو ،جملہ عاشقوں کے سردار آقائے نامدار ۖ پر جس قدر ممکن ہو درود شریف پڑھتے ہوئے تلاوت کرکے ہدیہ کیجیے ۔اس راہِ عشق کے سردارآنحضرت ۖہیں ۔اس لیے میرے نزدیک اور علما ء کے ایک گروہ کے نزدیک پہلے مدینہ منورہ جانا افضل ہے۔ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاء وک فاستغفرواللّٰہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللّٰہ تواباً رحیما ہمارے آقا حضرت محمد ۖ تمام اُمّت کے لیے بلکہ تمام عالم کے لیے رحمت ہیں ۔آپ کے پاس حاضری دے کر عرض کرو، یا رسول اللہ ہم حاضر ہوئے ہیں،ہمارے لیے حج کی قبولیت کی دعا فرمائیے ،شفاعت فرمائیے ،پھر جناب