ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
¾اكستان Ù |
|
ویستغفرون للذین اٰمنواربنا وسعت کل شیئٍ رحمة وعلما فاغفرللذین تابوا واتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم ربنا وادخلھم جنات عدنن التی وعد تھم ومن صلح من اٰبائھم وازواجھم و ذریتٰھم انک انت العزیز الحکیم وقھم السّیئٰات ومن تق السّیئٰات یومئذٍ فقد رحمتہ وذٰلک ھو الفوز العظیم۔ یہ فرشتے تمہارے لیے ،تمہاری اولاد کے لیے ،تمہاری بیویوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں اسی طرح سے اللہ تعالیٰ نے عام فرشتوں کو تمہارے لیے مسخر اور تابعدار بنادیا ۔وہ تمہاری خدمات کرتے ہیں ۔تمہاری حفاظت کرتے ہیں بادلوں کو چلانا ،پہاڑوں کی حفاظت کرنا ،دریائوں کو چلانا یہ سب کام ان کے ذمے ہیں اور یہ ساری خدمات مفت بلامعاوضہ کرتے ہیں ۔تم سے اس پر تنخواہ یا اُجرت اور مزدوری نہیںطلب کرتے ۔اللہ تعالیٰ کا احسان انسان پر بالخصوص مسلمانوںپر جس قدر ہے اتنا کسی پر نہیں ۔ اس لیے اگر احسان کی وجہ سے محبت کی جائے تو اللہ تعالیٰ سے کی جانی چاہیے اور اس جیسی محبت کسی سے نہ ہونی چاہیے۔ (٤) چوتھا سبب محبت کا ''قرب'' ہے ۔قرابت داری کی وجہ سے بھی محبت کی جاتی ہے ۔بیٹا قریب ہے باپ کابلکہ جزو ہے،بھائی جزو ہے باپ کا ،ماں باپ اولاد وغیرہ کی محبت قرابت ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اب دیکھو کہ خدا تمہارے کس قدر قریب ہے۔تم خود بھی اپنی ذات سے اس قدر قریب نہیں ہو ۔ لقد خلقنا الانسان ونعلم مانوسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید۔ وھو معکم اینما کنتم۔(قرآن الحکیم) اگر قربت داری کے باعث محبت ہے تو اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ قریب ہے۔مختلف آیتیں ا س پر شاہد ہیں کہ انسان کو خود اپنے سے او ر کسی انسان سے اتنا قُرب نہیں جتنااللہ تعالیٰ سے ہے ۔وہ تمہاری روح سے متصل ہے ۔وفی انفسکم افلا تبصرون ۔ میرے بھائیو!محبت کے یہ چار وں سبب اللہ تعالیٰ میں بدرجہ ا تم واکمل موجود ہیں تو چاہیے کہ اللہ کی محبت بھی ہر چیز سے زائد ہو۔ خدائے پاک کی دو صفتیں ہیں : (١ )جلال (٢)جمال ۔مالکِ نفع و نقصان ہونا صفتِ جلال کے ماتحت ہے او ر محبوب ہونا جمال کی وجہ سے ہے ۔جو عبادات محبت کی وجہ سے ہوتی ہیں ان کا طریقہ الگ ہے اور جو مالکیت کی وجہ سے ہوتی ہیں ان کا طریقہ الگ۔مالکیت میں آداب وسنن کا لحاظ ضروری ہے۔عقل سے سوچ بچار کرکے ہر کا م کو کیا جائے۔دو عبادتیں نماز اور زکٰوة صفتِ مالکیت کے ماتحت مقرر فرمائیں۔نماز میںمن اولہ الیٰ اٰخر ہر جز و میں آداب کی