ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
¾اكستان Ù |
|
اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز میںجس قدر کمال رکھتا ہے دوسرا کوئی نہیں رکھ سکتا۔ (٢) دوسرا سبب محبت کا ''جمال'' ہے۔ حُسن وجمال بھی محبت کا سبب ہوتا ہے ۔سورج ،چاند ،ستارے ،فرشتے اور انسانوں میں مرد اور عور ت میں جو بھی حُسن اور جمال پایا جاتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے ۔ظاہر ہے کہ دینے والا وہی چیز دے سکتا ہے جو خود اس کے پاس موجود ہو ،جبکہ ہر ایک شے میں جو کچھ بھی حُسن وجمال ہے وہ سب خدا ہی کا دیا ہوا ہے توخودخدا کے اندر حُسن وجمال کا ہونا ،بلکہ سب سے زیادہ اور سب سے اکمل و اعلیٰ درجہ کا ہونا اس سے معلوم ہوتا ہے۔اِنَّ اللّٰہ جمیل و یحبُّ الجمال ۔کسی میںکو ئی جمال ہے تو اس کا مبداء ذات باری تعالیٰ ہے۔ چودھویں رات کے چاند میںجو جمال ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہے ۔حیوانات ،جمادات ، فرشتے ،انسان ،مرد اور عورتوں میں جو بھی حُسن وجمال ہے وہ سب اسی کا ہے۔ جس مخلوق میںتھوڑا سا بھی حُسن ہوتا ہے اس پر فریفتہ ہوتے ہیں ۔چکور کو چودھویں رات کے چاند سے محبت ہے بُلبل کو گل سے ۔وہ خدا جس نے سب کو حُسن وجمال عطا فرمایا ہے خود اس میں جتناحُسن وجمال ہے کسی چیز میں نہیں۔ (٣) تیسرا سبب محبت کا ''احسان'' ہے ۔ الا نسان عبد الاحسان ۔کیا اللہ تعالیٰ کے احسان کے برابر کسی کا احسان ہو سکتاہے ۔کیا اللہ جیسا محسن کوئی ہو سکتا ہے ۔ماںباپ کو دیکھیے کہ ا ن کا احسان اپنی اولاد پر جتنا ہوتاہے کسی کا نہیں ہو سکتا ۔کیونکہ وہ اللہ کی صفتِ خالقیت کے مظہر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہرانسان بلکہ ہر مخلوق پر جس قدر ہے کسی کا بھی نہیں ہم کو ہمارے ماں باپ کو وجود سے نوازا ۔دیکھنے چلنے پھرنے کی طاقت سب اس نے دی ۔خدا کا احسان ہر مخلوق پر جب سب سے زیادہ ہے تو چاہیے کہ اس سے محبت بھی سب سے زیادہ اور اعلیٰ درجہ کی ہو ۔ اس جیسی محبت کسی دوسرے سے نہ ہو ۔انسان پر اللہ تعالیٰ کا احسان کتنا بڑا ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے پہلے زمین و آسمان او ر اس کی راحت کے تمام ساز و سامان پیدا کردیے ۔خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْاً ثُمّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰ ھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ یعنی انسان کو پیدا کرنے سے پہلے ہی اس پر احسانات کی بارش فرمائی ۔پیدا کرنے کے بعد اس قدر احسانات کیے کہ ان کا احاطہ اور شمار ممکن نہیں واتاکم من کل ماسألتموہ وان تعد وانعمة اللّٰہ لا تحصوھا ۔تمام چیزوں کو تمہارے لیے پیدا کیاہے۔ خلق لکم مافی الارض جمیعا اور صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا الم تروا ان اللّٰہ سخرلکم مافی السمٰوات وما فی الارض واَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعْمَہ ظَاہِرَةً وبَاطِنَةً۔ یہ سب کے سب تمہاری اطاعت کرتے ہیں ،تمہاری خدمات میں لگے ہوئے ہیں بیگارمیں۔کوئی تم سے اپنی خدمات کی مزدوری طلب نہیں کرتا ۔بغیر اُجرت کے شب وروز تمہاری خدمات میں ہر ایک مخلوق لگی ہوئی ہے ۔چاہے آسمان میں ہو یا زمین میں۔ یہاںتک کہ فرشتے تمہاری خدمات کرتے ہیں ۔فرشتوںمیںاعلیٰ درجے کے مقرب فرشتے حاملین ِعرش بھی تمہارے لیے مسخر ہیں اور شب وروز دعا گوئی کرتے ہیں : الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم