ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
یُدَارِیْ ھَوَاہُ ثُمَّ یَکْتُمُ سِرّہوَ یَخْشَعُ فِیْ کُلِّ الْاُمُورِ وَیَخْضَع حاصل کلام یہ ہے کہ تابعداری کے یہی تین اسباب ایک کو دوسرے کی تابعداری پر مجبور کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ میں یہ تینوں اسباب بدرجہ اتم موجود ہیں ۔اللہ تعالیٰ سے اس قدر نفع کی اُمّید ہے کہ دنیا میں کسی سے نہیں ۔اللہ تعالیٰ سب کا مربی ،سب کا نگران ،سب کا پیدا کرنے والا اور سب کا پالنے والا ہے ۔کتنا ہی بڑا بادشاہ ہو اس قدر نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وللّٰہ ملک السمٰوات والارض ، مالک الملک تؤتی الملک من تشآئُ و تنزع الملک ممن تشا ء وتعزمن تشاء وتذل من تشاء بید ک الخیر انک علیٰ کل شیئٍ قدیر۔ جسے چاہتا ہے شہنشاہ بنا دیتا ہے ،جسے چاہتا ہے غریب رکھتا ہے ۔سب کچھ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے تمہارے پاس جتنی نعمتیں ہیں سب اُسی کی ہیں ،وما بکم من نعمة فمن اللّٰہ۔اس کی نعمتوںکا شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے ۔اس کی نعمتیں جو تم کو مل رہی ہیں ان گنت اور بے شمار ہیں ۔تم جو مانگتے ہووہ تم کو دیتا ہے واٰ ٰتکُم من کل ما سألتموہ اس لیے اللہ تعالیٰ سے نفع کی اُمّید جتنی تمام مخلوق کو ہے اور ہو سکتی ہے اتنی او رکسی سے نہیں ۔ہم دنیاوی زندگی او ر اُخروی زندگی میں اللہ ہی کے محتاج ہیں ۔و ہ ہر چیز کو محیط ہے۔ مطلع ہے کوئی اس کے احاطہ سے خارج نہیں۔اسی طرح نقصان کا اندیشہ جتنا اس سے ہے او ر کسی سے نہیں۔جابجا ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے تمہارے معبود ہیںان سب کے اندر نہ مالکیت نفع کی ہے نہ مضرت کی ۔افتعبدون من دون اللّٰہ مالا ینفعکم شیئًاولا یضرکم ۔خدا کے سوا کسی سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں۔اگر اللہ کسی کو نفع پہنچانا چاہے اور تمام مخلوق مل کر اس کو نقصان پہنچانا چاہے تونقصان نہیں پہنچ سکتا اوراگرخدا کسی کو نقصان پہنچانا چاہے اور سارا جہان مل کر بھی اُ س کو نفع پہنچانا چاہے تو نفع نہیں پہنچا سکتا ۔حقیقةً نفع کی اُمّیداورنقصان کا اندیشہ اُسی سے ہے جسے چاہے نواز دے ،جس کو چاہے بادشاہ بنا دے ،جس کو چاہے مریض بنادے ،مالک الملک ہے۔جسے چاہے ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال کردے ،جسے چاہے مصیبت میںڈال دے ،جسے چاہے مصیبتوں سے نجات دیدے ۔ہر چیز کا جاننے والا ہر ایک کو پالنے والا وہی خدا وند کریم ہے ۔صفت مالکیت کی وجہ سے جنات اور ملائکہ پر بھی اس کی تابعداری ضرور ی ہے ۔ اس کی صفتِ مالکیت کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ اس کی تابعداری کی جائے کیونکہ اس کواگر راضی کیا جائے گا تو ہرقسم کی نعمتیں پہنچیں گی اور اگر اس کو ناراض کیا جائے گا تو ہر ایک نقصان کا اندیشہ ہے۔تیسری وجہ تابعداری کی محبت ہے۔ محبت کے چار اسباب ہوتے ہیں : (١ ) کمال (٢) جمال (٣) احسان (٤) قرب (١) کسی میں کوئی کمال ہوتا ہے تو اس سے اس ''کمال'' کی وجہ سے محبت کی جاتی ہے۔ع ''کسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شوی''