ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی ۖ نے فرمایا (مسلمانوں کے ) ایک حکمران کی وفات پر (اصحاب رائے لوگوں میں ) بڑا اختلاف واقع ہو گا (کہ اب کس کو حاکم مقرر کیا جائے ان حالات میں )مدینہ والوں میں سے ایک صاحب ( اس ڈر سے کہ کہیں ان پر حکمرانی کابار نہ ڈال دیا جائے ) مکہ مکرمہ کی طرف جائیں گے ( لیکن ان کی شخصیت او ر ان کے جوہر چھپے نہ رہ سکیں گے اس لیے)مکہ والوں میں سے کچھ لوگ ان کے پا س آئیں گے اور ان کی ناگواری کے باوجودان کو ان کے گھر سے نکالیں گے ۔اور (مسجد حرام میں لے کرجاکر ) حجر اسوداور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پربیعت کریں گے (اوران کو اپنا حکمران بنائیںگے یہ امام مہدی علیہ السلام ہوں گے ۔آس پاس کے حکمران اِن کی حکمرانی اور امامت کو پسند نہ کریں گے )اور شام سے ان کی طرف ( ان سے لڑنے کے لیے )ایک لشکر بھیجا جائے گا جس کو( امام مہدی علیہ السلام کی تائید میں )مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان مقام بیداء میں زمین میں دھنسا دیا جائے گا جب لوگ ان کی یہ تائید دیکھیں گے تو( ہر طرف سے لوگ ان کو اپنے لیے نجات دہندہ سمجھ کر ان کے پاس آئیں گے یہاں تک کہ) شام کے ابدال اور عراق کے اولیا ء ان کے پاس آئیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ پھر قریش میں سے ایک شخص کی جس کی ماںقبیلہ کلب کی ہوگی اُٹھے گا اورامام مہدی علیہ السلام کے حما یتیوںکے خلاف ایک کلبی لشکر بھیجے گا ۔امام مہدی کے لوگ اس لشکر پر غالب آ ئیں گے وہ نبی ۖ کے طریقے کے مطابق حکمرانی کریں گے اور اسلام زمین پر اپنی گردن ڈال دے گا ( یعنی پوری زمین میں کامل اسلام کا نفاذ ہو گا )وہ (حاکم ہونے کے بعد ) سات سال تک رہیں گے پھر وفات پائیںگے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (جاری ہے)