پاس بخاری شریف کا صرف ایک مصری نسخہ بلا حاشیہ و بین السطور موجود تھا، حسب معمول سلیس اردو میں اپنی تحقیق او ربہترین مناسبت بالابواب تحریر فرمانی شروع کی۔‘‘(حیات شیخ الہند/۲۵۰ـ-۲۵۱)
حضرت شیخ الہندؒ کا یہ رسالہ حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی ؒکے مقدمے کے ساتھ طبع ہوا، حضرت مدنی نے مقدمہ میں تحریر فرمایا ہے :
’’حضرت شیخ الہند قدس سرہ کی آخری تحریر تراجم بخاری سے متعلق تھی، جس کو اس خیال سے کہ آپ کا فیض علمی تا قیام قیامت جاری رہے، شائع کیا جاتا ہے ،عدم مساعدت مشیت ایزدی کی وجہ سے اگر چہ شیخ الہند قدس سرہ اس تمام لالی و جواہر کو کاغذ کی سطح پر نہ رکھ سکے جن کا آپ نے ارادہ کرلیا تھا لیکن بحالت موجودہ بھی یہ گنجینۂ گراں مایہ سر آنکھوں پر رکھنے کے قابل ہے ، ارباب نظر اور اصحاب علم اس مختصر سی تحریر سے جو فوائد حاصل کریں گے ان سے خود ہی واقف ہوجاوینگے ،دعا ہے کہ خداوند عالم اس تحریر کوقبولیت عامہ سے نو ازے، بالجملہ یہ رسالہ اس ناتمامی کی حالت میں بھی اگر بدر کامل کا کام نہیں دے گا توماہ دہ روزہ ثابت ہوگا۔‘‘( مقام محمود/۱۴۵-۱۴۶بحوالہ الابواب والتراجم:۲،۳،۷۹)
تصحیح ابو داؤد
سنن ابی داؤد صحاح ستہ میں خاص اہمیت کی حامل بلند پایہ کتاب ہے، سالہا سال یہ کتاب حضرت شیخ الہند کے زیر تدریس رہی، سنن ابی داؤد کے اس دور کے مطبوعہ نسخوں میں متن میں متعدد کمیاں اور خامیاں تھی، انھیں کی تصحیح کا بیڑا حضرت نے اٹھایا، حضرت نے ابو داؤد کے تمام دستیاب قلمی اور مطبوعہ نسخے جمع کرائے اور سب کا بدقت نظر مطالعہ،مقارنہ اور