نے فرمایا کہ یہ توایک بدیہی کو نظری کرنا ہوا، اس لئے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز تعدد رکوع کے ساتھ خود ہی تمام لوگوں کے سامنے مجمع عظیم کو پڑھائی، اورآپ صلی اللہ علیہ و سلم امت کے لئے تعدد رکوع ہی کو مشروع قرار دینا چاہتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر اکتفاء کیو ں نہیں فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل تو لوگوں نے اس وقت دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فعل بھی حجت شرعی ہے ، صرف عمل پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صبح کی نماز کے ساتھ تشبیہ دی، اورقول کے ساتھ امت کو حکم دیا، اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ واضح فرماتے ہیں کہ تعدد رکوع کسی عارض کی وجہ سے تھا اور امت کو وہ طریقہ بتلادیا جونماز کے بارے میں ایک معروف طریقہ تھا۔(مقام محمود /۶۶-۶۷)
(۲) حدیث مصراۃ کی توجیہ
فقہ اور حدیث کے معرکۃ الاراء مسائل میں سے ایک مشہور مسئلہ’’ شاۃ مصراۃ‘‘ کا ہے، جس کی تفصیلات سے اہل علم بخوبی واقف ہیں ،عام طور پر جانوروں کا کاروبار کرنے والے لوگ اپنے دودھ والے جانور (بکری،اونٹنی وغیرہ) کا دودھ فروخت کرنے سے چند ایام قبل سے دوہنا روک دیتے تھے، تاکہ تھن فروخت کے وقت پھولے نظر آئیں اور خریدار جانور کو خوب دودھ دینے والا سمجھ کر زیادہ قیمت میں خرید لے۔
احادیث میں حکم آیا ہے کہ جب بھی کوئی ایسا جانور خریدے اور بعد میں اسے اندازہ ہو کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے تووہ عیب دار جانور کو واپس کرسکتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے ایک صاع کھجور بھی بیچنے والے کو دینی ہوگی۔
حدیث میں ایسے جانور کو واپس کرنے کے ساتھ ایک صاع کھجور واپس کرنے کاجو