Deobandi Books

حضرت شیخ الہند ۔ شخصیت خدمات و امتیازات

41 - 73
میں غایت درجہ مشکل ہوتی تھیں ، شاہ صاحب کے یہاں جوآخری جواب ہوتا تھا، وہ حضرت نانوتوی اول ہی مرتبہ میں فرمادیتے تھے، میں نے بار بار اس کا تجربہ کیا ہے ۔‘‘ ( تاریخ دارالعلوم دیوبند:۱/۱۱۳)
صحاح ستہ کے اس بصیرت افروز، محققانہ اور عالمانہ درس کا سلسلہ تقریباً دو سال میں مکمل ہوا، حضرت شیخ الہند پوری تیاری ، حاضر دماغی،پابندی، اور لائق رشک علمی ذوق کے ساتھ اس درس میں شریک ہوئے اور۱۲۸۹ھ میں اس کی تکمیل فرمائی۔
تدریس حدیث
حضرت شیخ الہند فراغت کے فوراً بعد ہی سے دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے تھے، ۱۲۹۲ھ میں آپ کو باضابطہ استاذ و مدرس طے کردیا گیا، اور اس کے ایک سال بعد ہی سے دورہ ٔحدیث کے اہم اسباق آپ سے متعلق کردیئے گئے،۱۳۰۸ھ میں آپ کو دار العلوم دیوبند کی صدارتِ تدریس تفویض کی گئی اور آپ آخر عمر تک اس منصب پر فائز رہے ۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فرماتے ہیں :
’’ حضرت شیخ الہندؒ نے مسلسل چالیس برس تک درس حدیث دیا، اور اس دوران آٹھ سوساٹھ اعلیٰ استعداد کے صاحب طرز عالم دین، فاضل دین اورماہرفنون پیدا کئے، آپ کا درس حدیث اس دور میں امتیازی شان رکھتا تھا اور مرجعِ علماء تھا، آپ کو علمائے عصر نے ’’ محدثِ عصر‘‘ تسلیم کیا۔‘‘ (کشف الباری شرح بخاری از حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہم :۱/۷۵)
حضرت شیخ الہند کے مسند صدارت سنبھالنے کے بعد طالبین علوم کا رجوع روز بروز بڑھتا چلا گیا، اور ملک کے طول و عرض سے تشنگان علوم نبوت اپنی علمی سیرابی کے لئے


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 حضرت شیخ الہندؒ 2 1
3 تأثرات 8 1
4 ابتدائیہ 10 1
5 باب اول 12 1
6 حضرت شیخ الہندؒ؛ شخصیت، خدمات وامتیازات 14 5
7 ولادت، تعلیم واساتذہ 15 5
8 تدریس 16 5
9 احسان وسلوک ومعرفت 17 5
10 تحریکی وجہادی خدمات 17 5
11 جمعیۃ علماء وتحریک خلافت 20 5
12 جامعہ ملیہ 20 5
13 عزیمت واستقامت اور فداکاری 21 5
14 خوف اور حساسیت 23 5
15 امت کو قرآن سے جوڑنے اور اتحاد کی فکر 24 5
16 اخلاص 25 5
17 اکرام ضیف 26 5
18 اساتذہ کا اکرام وخدمت 27 5
19 اتباعِ شریعت 28 5
20 تواضع اور بے نفسی 31 5
21 حضرت شیخ الہند کے تصنیفی وتالیفی کارنامے 35 5
22 وفاتِ حسرت آیات 36 5
23 باب دوم 38 1
24 حضرت شیخ الہند: خدمت حدیث کے نمایاں گوشے 40 23
25 تحصیل علوم حدیث 40 23
26 تدریس حدیث 41 23
27 تدریس حدیث کا اسلوب وامتیاز 42 23
28 علم حدیث میں حضرت شیخ الہند کی دقت نظر اور اس کے نمایاں نمونے 46 23
29 (۱) سورج گرہن کی نماز 47 23
30 (۲) حدیث مصراۃ کی توجیہ 48 23
31 (۳) وضوکا بچا ہوا پانی 49 23
32 (۴)محبت نبوی میں نفسانیت 50 23
33 (۵) حدیث فہمی کا ایک اصول 51 23
34 (۶) حضرت عمرؓ اور شیطان 53 23
35 (۷) میت پررونے کا مسئلہ 54 23
36 (۸) یوم الشک کا روزہ 55 23
37 (۹) حالت استنجاء میں قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ کرنے کا مسئلہ 56 23
38 (۱۰) سمند ر کے پانی اورمردارکے مسئلہ والی حدیث 58 23
39 (۱۱) صحیح بخاری کے پہلے باب کی توضیح 59 23
40 (۱۲) وزن اعمال 60 23
41 حدیث کی سند عالی کا شرف و امتیاز 61 23
43 خدمت حدیث کے تعلق سے حضرت کے عظیم تصنیفی کارنامے 62 23
44 تصحیح ابو داؤد 64 23
45 ایضاح الادلہ اور ادلۂ کاملہ 65 23
46 احسن القریٰ 66 23
47 تقریر ترمذی 67 23
48 تقریر بخاری 67 23
49 تلامذہ 68 23
50 حاصل 69 23
51 مصنف کی مطبوعہ علمی کاوشیں 70 1
52 l اسلام میں عفت وعصمت کا مقام 70 51
53 l اسلام میں صبر کا مقام 70 51
54 l ترجمان الحدیث 70 51
55 l اسلام کی سب سے جامع عبادت نماز 70 51
56 l اسلام اور زمانے کے چیلنج 71 51
57 l سیرتِ نبویہ قرآنِ مجید کے آئینے میں 71 51
58 l عظمتِ عمر کے تابندہ نقوش 71 51
59 l گناہوں کی معافی کے طریقے اور تدبیریں 71 51
60 l گلہائے رنگا رنگ 71 51
61 l مفکر اسلام؛ جامع کمالات شخصیت کے چند اہم گوشے 72 51
62 l علوم القرآن الکریم 72 51
63 l اسلام میں عبادت کا مقام 72 51
64 l اصلاح معاشرہ اور تعمیر سیرت واخلاق 72 51
65 l اسلام دین فطرت 73 51
66 l دیگر کتب: 73 51
67 l عربی کتب: 73 51
68 تفصیلات 3 1
69 ملنے کے پتے: 3 1
71 مشمولات 4 1
Flag Counter