میں غایت درجہ مشکل ہوتی تھیں ، شاہ صاحب کے یہاں جوآخری جواب ہوتا تھا، وہ حضرت نانوتوی اول ہی مرتبہ میں فرمادیتے تھے، میں نے بار بار اس کا تجربہ کیا ہے ۔‘‘ ( تاریخ دارالعلوم دیوبند:۱/۱۱۳)
صحاح ستہ کے اس بصیرت افروز، محققانہ اور عالمانہ درس کا سلسلہ تقریباً دو سال میں مکمل ہوا، حضرت شیخ الہند پوری تیاری ، حاضر دماغی،پابندی، اور لائق رشک علمی ذوق کے ساتھ اس درس میں شریک ہوئے اور۱۲۸۹ھ میں اس کی تکمیل فرمائی۔
تدریس حدیث
حضرت شیخ الہند فراغت کے فوراً بعد ہی سے دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے تھے، ۱۲۹۲ھ میں آپ کو باضابطہ استاذ و مدرس طے کردیا گیا، اور اس کے ایک سال بعد ہی سے دورہ ٔحدیث کے اہم اسباق آپ سے متعلق کردیئے گئے،۱۳۰۸ھ میں آپ کو دار العلوم دیوبند کی صدارتِ تدریس تفویض کی گئی اور آپ آخر عمر تک اس منصب پر فائز رہے ۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فرماتے ہیں :
’’ حضرت شیخ الہندؒ نے مسلسل چالیس برس تک درس حدیث دیا، اور اس دوران آٹھ سوساٹھ اعلیٰ استعداد کے صاحب طرز عالم دین، فاضل دین اورماہرفنون پیدا کئے، آپ کا درس حدیث اس دور میں امتیازی شان رکھتا تھا اور مرجعِ علماء تھا، آپ کو علمائے عصر نے ’’ محدثِ عصر‘‘ تسلیم کیا۔‘‘ (کشف الباری شرح بخاری از حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہم :۱/۷۵)
حضرت شیخ الہند کے مسند صدارت سنبھالنے کے بعد طالبین علوم کا رجوع روز بروز بڑھتا چلا گیا، اور ملک کے طول و عرض سے تشنگان علوم نبوت اپنی علمی سیرابی کے لئے