جواب دیتے تھے، اس کے بعد تحقیقی جواب دیا کرتے تھے، چنانچہ اس سوال کے جواب میں آپ نے پہلے تو یہ فرمایا کہ:
’’ یہ شیطان کی حماقت ہے، اسی سے پوچھو کہ وہ حضرت عمر سے اتنا کیو ں ڈرتا تھا اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم یا صدیق اکبرؓ سے اتنا کیوں نہیں ڈر تا تھا۔‘‘
پھر تحقیقی جواب دیا کہ:
در حقیقت کسی شخص کاافضل ہونا اورچیز ہے اوردلوں پر اس کا رعب ہونا دوسری بات ہے ، ضروری نہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ افضل ہو اس کا رعب بھی دوسرے ہر فرد سے زیادہ ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ پرشان جلال غالب تھی اس لئے دلوں پر ان کا رعب بیٹھا ہواتھا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صدیق اکبرؓ پر شان جمال غالب تھی، اس لئے اگر کسی شخص کو حضرت عمر سے زیادہ ڈر لگے توکوئی تعجب کی بات نہیں ۔(تذکرے/۱۹۸-۱۹۹)
(۷) میت پررونے کا مسئلہ
حضرت شیخ الہندؒ نے عہد صحابہ سے اختلافی چلے آرہے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ تقریر فرمائی:
’’ اس مسئلہ میں دومذہب ہیں ، جمہور صحابہؓ اور تابعینؒ کا مسلک اور یہی حضرت عائشہؓ کی رائے ہے کہ میت کے ا ہل خانہ کے اس پر رونے سے میت کو عذاب نہیں ہوتا، اور عائشہؓ کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول :ولاتزر وازرۃ وزراخریہے ، عمر ؓ ، ابن عمرؓ اور ان کے متبعین حضرات کا مسلک ہے المیت یعذب ببکاء اہلہ علیہ (میت کے اہل خانہ کے اس پر رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے ) تو وہ احادیث جو عمرؓ اور ابن عمرؓ کے مسلک پر