ابتدائیہ
الحمد للہ رب العالمین ، والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین، و علی آلہ و صحبہ اجمعین ۔
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی پوری ملت اسلامیہ کے لئے سرمایۂ ناز وافتخار شخصیت کا مقام رکھتی ہے ، حضرت کی تعلیمی ، تربیتی، اصلاحی و جہادی خدمات ومجاہدات پوری ملت کے لئے مشعل راہ نمونے کا درجہ رکھتے ہیں ۔
احقر کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ایک مختصر رسالہ حضرت شیخ الہند کے اجمالی حالات اور امتیازی کمالات اوران کے ذریعے حاصل ہونے والے عظیم پیغام پر مشتمل مرتب کیا جائے۔
اللہ رب العالمین نے اس تمنا کی تکمیل کی راہ اس طرح پیدا فرمائی کہ جمعیۃ علماء ہند(جو اصلاً بنیادی طور پر حضرت شیخ الہند کے افکار کی اساس پر اول روز سے قائم ہے ) نے تحریک ریشمی رومال پر ہجری اعتبار سے ایک صدی مکمل ہونے کی مناسبت سے اس تحریک اورقائد تحریک حضرت شیخ الہند سے امت اور بطور خاص نوجوانوں کو باخبر کرنے کے لئے مختلف چھوٹے بڑے اجتماعات اور کانفرنسیں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔
احقر کو اس سلسلے کے متعدد پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا اور اسی سے تحریک پاکر احقر نے ایک مقالہ’’ حضرت شیخ الہند : شخصیت، خدمات و امتیازات‘‘ کے موضوع پر ترتیب دیا، جس میں حضرت کی تعلیمی وتحریکی و جہادی خدمات کا اجمالی تذکرہ بھی ہے اور حیات شیخ الہند کے انقلاب آفریں ، نصیحت آموز، فکر انگیز اور قابل تقلید امتیازی پہلوؤں کا بطور خاص بیان بھی ہے ۔
یہ مقالہ مختلف مجلات وجرائد میں طبع بھی ہوا، بطور خاص ماہنامہ ’’ ندائے شاہی‘‘ مرادآباد میں تین قسطوں میں اس کی اشاعت عمل میں آئی، اور اس کے منتخب اجزاء ’’ فکر اسلامی‘‘ بستی میں بھی طبع ہوئے۔
متعدد احباب کے اصرار پر احقر نے اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ کیا، اس موقع