ملیں نہ فلسفے میں ، نہ ادب میں اور نہ کسی اور فن میں ملی تھیں ، دوسروں کے متعلق کچھ کہنے کا ظاہر ہے ، مجھے کیا حق ہے ،لیکن اپنی حد تک یہ محسو س ہوتا تھاکہ میرا باہر بھی بدل رہا ہے اور اندر بھی۔(احاطۂ دار العلوم/۱۵۵-۱۵۶)
مذکورہ تفصیل سے سمجھا جاسکتا ہے کہ:
l عالمانہ وقار
l جامعیت اور موضوع کا استیعاب و احاطہ
l علمی تحلیل و تجزیہ
l علمی دیانت
l قرآنی استدلال پر اولین ترکیز
l دوسرے مرحلے میں احادیث نبوی کی طرف مکمل اعتناء
l اس کے بعد آثار صحابہ سے استدلال
l ائمہ دین کا غایت درجہ احترام
l احادیث کے اخلاقی و احکامی ہر د و پہلوؤں کی طرف توجہ دہانی
l معقولی، اصولی اور دل نشین ہوجانے والا انداز و اسلوب
l احادیث میں جمع و تطبیق کی مکمل کوشش
وغیرہ حضرت شیخ الہند کے درس حدیث کے بنیادی امتیازات ہیں ۔
علم حدیث میں حضرت شیخ الہند کی دقت نظر اور اس کے نمایاں نمونے
اللہ عزوجل نے حضرت شیخ الہند کوعلمی رسوخ و تبحر،فہم و بصیرت، ذوقِ تحقیق اور قوت