پر یہ خیال بھی آیا کہ حضرت شیخ الہند کی حدیثی خدمات پر بھی ایک مضمون مرتب کر کے اس میں شامل کیا جائے۔
یہ خیال اس لئے پیدا ہوا کہ مارچ۲۰۰۷ء میں محدث گرامی حضرت مولاناڈاکٹر تقی الدین ندوی مظاہری صاحب دامت برکاتہم( جن کو اللہ نے بطورخاص خدمت حدیث کے میدان میں خاص توفیق سے نوازا ہے اور متعدد جلیل القدر تالیفات و تحقیقات و خدمات ان کے قلم سے اور ان کی سرپرستی میں طبع ہوکر اہل علم کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بن رہی ہیں ) نے اپنے جامعہ اسلامیہ مظفرپور اعظم گڑھ میں ’’ تیرہویں اور چودھویں صدی ہجری میں ہندوستان اور علم حدیث‘‘ کے موضوع پر انتہائی عظیم الشان باوقار،مبارک علمی سمینارمنعقد کیا تھا، خود احقر نے اس میں حضرت نانوتوی کی حدیثی خدمات پر اپنا مقالہ پیش کیا تھا، سمینارکے مقالات کا گراں قدر مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے جس میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سے لے کر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمیؒ تک تمام ممتاز محدثین کی خدمات پر مقالات شامل اشاعت ہیں ، مگر باعث تأسف و تعجب ہے کہ حضرت شیخ الہند (جو استاذ الاساتذہ اور محدث جلیل ہیں ) کی خدمات پرضمنی تذکرے کے سوا کوئی مستقل مقالہ نہ پیش کیا گیا اور نہ شامل اشاعت ہوا ۔
اس طرح احقر نے اس کو ایک قرض محسوس کیا اور ادائے فرض کے لئے اپنی نااہلی کے باوجود اس موضوع پر قلم اٹھایا اور ایک مقالہ مرتب کیا۔
اب یہ رسالہ حضرت شیخ الہندؒ کے حالات ، نمایاں خدمات، امتیازات اور علمی بطور خاص نمایاں حدیثی خدمات کو جامع ہو گیا ہے ، میرے لئے باعث مسرت ہے کہ نبیرۂ شیخ الاسلام مخدوم گرامی حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری دامت برکاتہم نے از راہ ذرہ نوازی اپنے گراں قدر تأثرات ارقام فرمائے جو زینت کتاب بن رہے ہیں ۔
اللہ عزوجل اپنے فضل سے اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس کا فیض عام فرمائے،آمین۔
محمد اسجد قاسمی ندوی
خادم حدیث جامعہ عربیہ امدادیہ مرادآباد
۶؍ ذی الحجہ۱۴۳۵ھ مطابق۲؍ اکتوبر۲۰۱۴ء