خواب کے اسلامی آداب و احکام |
خواب کا |
|
نبی کریمﷺکا خواب میں اپنا دار الہجرۃ دیکھنا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں تو مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ یمامہ ہجر ہے لیکن وہ تو مدینہ تھا۔رَأَيْتُ فِي المَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا اليَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ، فَإِذَا هِيَ المَدِينَةُ يَثْرِبُ۔(بخاری :3622)نبی کریمﷺکا خواب میں تلوار کے ٹوٹنے اور جڑنے کو دیکھنا : اور میں نے اسی خواب میں(جس میں آپﷺکو دار الہجرۃ دکھایا گیا تھا)دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو اس کا سر الگ ہو گیا معلوم ہو گیا کہ یہ وہ نقصان تھا جو احد کے دن اہل ایمان کو ہوا پھر میں نے دوبارہ تلوار کو حرکت دی تو وہ پہلے سے بھی اچھی ہو گئی یہ وہ فتح ہے جو اللہ نے تعالیٰ نے عطاء فرمائی۔وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا، فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ المُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ بِأُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الفَتْحِ، وَاجْتِمَاعِ المُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا، وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ المُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِذَا الخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الخَيْرِ وَثَوَابِ الصِّدْقِ، الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ۔(بخاری:3622)نبی کریمﷺکا اسماءِ حسنہ سے اچھی تعبیر لینا : حضرت انس بن مالکفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے ایک رات کو نیند کی حالت میں دیکھنے والے کی طرح یعنی خواب دیکھا کہ جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں، پس ہمارے آگے تر کھجوریں لائی گئیں، جس کو” ابن طاب“ کی کھجور کا نام دیا جاتا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ ہمارا درجہ دنیا میں بلند ہو گا، آخرت میں نیک انجام ہو گا اور یقیناً ہمارا دین بہتر اور عمدہ ہے۔رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، كَأَنَّا فِي