ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2012 |
اكستان |
|
ہم بنائِ پاکستان کے وقت سے یہی مطالبہ کرتے آئے ہیں اَور اَب بھی کرتے ہیں اِس لیے عرض ہے کہ صدر محترم اگر اِسلامی اِنقلاب لانا چاہتے ہیں تو اُنہیں اِسلام کے غلبہ اَور اُس کے قانونی نفاذ کے لیے دو قسم کے اِقدامات کرنے ضروری ہیں۔ (١) عدلیہ کی تبدیلی : الف : چیف جسٹس اَور اُس کے تمام ساتھی جج عالم مقرر کیے جائیں اَلبتہ چیف جسٹس اگر اپنے ساتھ اپنی اِمداد کے لیے کسی اَنگریزی قانون دان جج یابین الاقوامی ماہر قانون وکیل کو جج رکھنا چاہے تو اُسے اِس کا اِختیار ہو۔ ب : اَعلیٰ عدالت (سپریم کورٹ) عدالت ہائے عالیہ (ہائی کورٹ) سیشن کورٹ اَور مجسٹریٹ درجہ کے سب عہدہ دَاران عدلیہ (دیوانی و فوجداری) صرف علماء مقرر کیے جائیں۔ یہ اِقدامات عملاً نفاذِ نظام ِ مصطفی کے لیے ضروری ہیں۔ ورنہ فرسودہ اَنگریزی قانون کے ماہرین میں چند علماء کی شمولیت چنداں مفیدنہیں ۔یہ تین علماء بھی پہلے علماء کی طرح ناکام ہو کر نکل آئیں گے۔ ج : شرعی عدالتوں کے تحت مارشل عدالتیںبھی آئیں گی اِسلامک لاء کی برتری مارشل لاء پر تسلیم کرنا ہوگی۔ یہ دینی فریضہ ہے اِس لیے اِسے صاف اَور واضح طرح تسلیم کیا جائے۔ علماء کی عدالتیں اِسلامی مارشل لاء کے تحت فیصلہ دیں گی۔اِسلام کے مار شل قوانین پر خود اِمام محمد رحمة اللہ علیہ کی جلیل القدر کتاب ''سِیَرِ کَبِیْر'' مع شرح تین جلدوں میں موجود ہے۔ د : وزیر قانون بھی عالم ہی ہو۔ قانونِ اِسلامی کے نفاذ کے لیے قوتِ علمی و عملی دونوں دَرکار ہیں ایک قوت'' قوت ِ علمی'' علماء کے پاس ہے دُوسری قو ت ''عمل و نفاذ'' صدر مملکت کے پاس ہے یہی دو طاقتیں بروئے کار لانی ضروری ہیں۔ علماء کے علاوہ اِس قانون کو کوئی نہیں جانتا اَور جس چیز کو کوئی نہیں جانتا ہو وہ اُسے کیسے عمل میں لاسکتا ہے ؟ اگر نظامِ اِسلامی کا نام ہزار بار بھی لیا جائے تب بھی وہ نہ آئے گا جب تک کہ عملًا ہی اُسے نہ لایا جائے تجاویز اَور خاکوں سے یا بتدریج اِسلامی قوانین کے اِجراء سے حکومت ِوقت کو اِسلامی اِنقلاب لانے میں