Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2012

اكستان

15 - 64
ہم بنائِ پاکستان کے وقت سے یہی مطالبہ کرتے آئے ہیں اَور اَب بھی کرتے ہیں اِس لیے عرض ہے کہ صدر محترم اگر اِسلامی اِنقلاب لانا چاہتے ہیں تو اُنہیں اِسلام کے غلبہ اَور اُس کے قانونی نفاذ کے لیے دو  قسم کے اِقدامات کرنے ضروری ہیں۔ 
(١)  عدلیہ کی تبدیلی  : 
الف  :  چیف جسٹس اَور اُس کے تمام ساتھی جج عالم مقرر کیے جائیں اَلبتہ چیف جسٹس اگر اپنے ساتھ اپنی اِمداد کے لیے کسی اَنگریزی قانون دان جج یابین الاقوامی ماہر قانون وکیل کو جج رکھنا چاہے تو اُسے اِس کا اِختیار ہو۔ 
ب  :   اَعلیٰ عدالت (سپریم کورٹ) عدالت ہائے عالیہ (ہائی کورٹ) سیشن کورٹ اَور مجسٹریٹ درجہ کے سب عہدہ دَاران عدلیہ (دیوانی و فوجداری) صرف علماء مقرر کیے جائیں۔ 
یہ اِقدامات عملاً نفاذِ نظام ِ مصطفی کے لیے ضروری ہیں۔ ورنہ فرسودہ اَنگریزی قانون کے ماہرین میں چند علماء کی شمولیت چنداں مفیدنہیں ۔یہ تین علماء بھی پہلے علماء کی طرح ناکام ہو کر نکل آئیں گے۔ 
ج  :  شرعی عدالتوں کے تحت مارشل عدالتیںبھی آئیں گی اِسلامک لاء کی برتری مارشل لاء پر تسلیم کرنا ہوگی۔ یہ دینی فریضہ ہے اِس لیے اِسے صاف اَور واضح طرح تسلیم کیا جائے۔ علماء کی عدالتیں اِسلامی مارشل لاء کے تحت فیصلہ دیں گی۔اِسلام کے مار شل قوانین پر خود اِمام محمد رحمة اللہ علیہ کی جلیل القدر کتاب  ''سِیَرِ کَبِیْر'' مع شرح تین جلدوں میں موجود ہے۔ 
د  :  وزیر قانون بھی عالم ہی ہو۔ 
قانونِ اِسلامی کے نفاذ کے لیے قوتِ علمی و عملی دونوں دَرکار ہیں ایک قوت'' قوت ِ علمی'' علماء کے پاس ہے دُوسری قو ت ''عمل و نفاذ'' صدر مملکت کے پاس ہے یہی دو طاقتیں بروئے کار لانی ضروری ہیں۔ 
علماء کے علاوہ اِس قانون کو کوئی نہیں جانتا اَور جس چیز کو کوئی نہیں جانتا ہو وہ اُسے کیسے عمل میں لاسکتا ہے ؟ 
اگر نظامِ اِسلامی کا نام ہزار بار بھی لیا جائے تب بھی وہ نہ آئے گا جب تک کہ عملًا ہی اُسے نہ لایا جائے تجاویز اَور خاکوں سے یا بتدریج اِسلامی قوانین کے اِجراء سے حکومت ِوقت کو اِسلامی اِنقلاب لانے میں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 فتح ِمکہ کے بعد مہاجرین کو مکہ میں سکونت کی اِجازت نہ ہونے کی حکمت : 7 3
5 ''مظلومیت'' مہاجرین کا اِعزاز : 8 3
6 آپ ۖ کو مہاجر کی مکہ میں وفات کا دُکھ : 8 3
7 اَنبیائے کرام سے منسوب کسی چیز کی تحقیر پر کفر کا اَندیشہ ہوتا ہے : 9 3
8 بعض تاجروں کا رونا : 10 3
9 پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے اِقدامات 11 1
10 حضرت اَقدس کی طرف سے جوابی مکتوب 12 9
11 پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے اِقدامات، مشکلات اَور اُن کاحل 13 9
12 نظام اِسلامی بروئے کار لانے کے لیے دو مؤثر فارمولے 14 9
13 (١) عدلیہ کی تبدیلی : 15 9
14 جدید مسائل کا حل : 16 9
15 (٢) بحالی اِسلامی جمہوریت : 17 9
16 اَنفَاسِ قدسیہ 18 1
17 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 18 16
18 اِخلاص وللہیت : 18 16
19 پردہ کے اَحکام 23 1
20 پردہ کے وجوب اَور ثبوت کے شرعی دَلائل : 23 19
21 نگاہ کی حفاظت کی ضرورت : 24 19
22 سیرت خلفائے راشدین 26 1
23 مُقدمہ 26 22
24 مروجہ محفل ِمیلاد 33 1
25 اہل سنت والجماعت کے معنٰی و مفہوم : 37 24
26 بدعت کی حقیقت : 37 24
27 بدعت کتنی بُری چیز ہے؟ 38 24
28 حضور ۖ ہمارے لیے ایک کامل و اَکمل نمونہ ہیں : 40 24
29 نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام کا ذکر ِمبارک اَور درُود و سلام : 41 24
30 صحابہ کی زِندگی اَور ہمارا عمل 43 1
31 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 43 30
32 (٣) حضراتِ صحابہ ث کی سادگی وبے تکلفی : 43 30
33 اَمیر المؤمنین صکا سرکاری وظیفہ : 44 30
34 تکلفات سے بچنے کی تلقین : 45 30
35 ہماری عزت تو اِسلام سے ہے : 45 30
36 وفیات 47 1
37 ماہِ صفرکے اَحکام اَور جاہلانہ خیالات 48 1
38 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 48 37
39 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 48 37
40 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اَور اُس کی تردید : 49 37
41 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 51 37
42 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اَوراُس سے متعلق بدعات : 52 37
43 مُلّا عبد اللہ صاحب سیالکوٹی 56 1
44 اِبتدائی حالات : 56 43
45 مُلا عبد الحکیم صاحب سیالکوٹی کی جانشینی : 57 43
46 اَورنگزیب سے تعلقات : 57 43
47 اِستغنائ: 58 43
48 وفات : 59 43
49 کنیت : 60 43
50 مُلا عبداللہ صاحب کے شاگرد : 60 43
51 تصانیف: 61 43
52 مُلا صاحب کے جانشین : 62 43
53 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter