ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2011 |
اكستان |
|
اِس آیت کے تحت تفسیر کبیر میں اِمام رازی نے وہ لوگ شمار کرائے ہیں اَور اُس میں بتایا ہے کہ اِس آیت کا مصداق سب سے زیادہ اَبو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بنتے ہیں۔ تو ایک خرابی تو یہ تھی داخلی طور پر کہ نبی پیدا ہونے شروع ہوگئے نبوت کے دعویدار بہت کھڑے ہوگئے اَور ایسے بااَثر کہ بہت سے اِدھر اُدھر جو لوگ تھے مسلمان دُور دراز کے وہ ڈانواں ڈول ہوگئے اُن سے، اُنہوں نے اِس فتنے کا سدباب کیا ایسا کہ ساتھ کے ساتھ ختم ہو گئے یہ بہت بڑا کارنامہ ہے بہت ہی بڑا کارنامہ ہے۔ ایک (جھوٹا نبی)تو جب رسول اللہ ۖ علیل تھے اُن دِنوں میں ختم ہوا ہے اَسود ِعنسی اُس کی خبر رسول اللہ ۖ کو بذریعہ وحی ہوگئی اَور آپ نے بتلادیا تھا صحابہ کرام کو کہ فلاں تو ختم ہوگیا اَور فیروز نے مارا ہے فَازَ فِیْرَوْزُ فیروز کامیاب ہوگیا باقاعدہ خبر جو لوگوںکے ذریعہ پہنچتی ہے وہ بعد میں پہنچی۔ دُوسری بات یہ ہوئی کہ اَر کانِ اِسلام جن لوگوں کے ذہن نشین نہیں تھے پورے اُن کے ذہن گڑ بڑ ہوگئے اِنسان مال سے محبت کرتا ہے یہ نئی چیز نہیں ہے بلکہ قرآنِ پاک میں آیا ہے زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ یہ چیزیں جتنی بھی ہیں گھوڑے ہوں ڈھیر ہوں سونے چاندی کے اَور شہوتیں ہیں جواِنسان کو بہت طرح کی لگی ہوئیں ہیں یہ بھی دِل چاہتا ہے یہ بھی دِل چاہتا ہے عورتیں بھی ہوں بچے بھی ہوں لڑکے بھی ہوں اَولاد بھی ہو یہ چیزیں جو ہیں یہ مزین لگتی ہیں دِل اِن کی طرف مائل ہوتا ہے تو یہ چیز تو ہے ہی ہے۔ اہم عقیدہ : اَب اُن کو زکوة دینی پڑتی تھی اَپنی محنت سے کمائی ہوئی چیز کو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ یہ میری ہے اِسلام نے بتایا کہ یہ تمہاری نہیں ہے خدا نے تمہیں قدرت دی ہے صحت دی ہے ہمت دی ہے دماغ تمہارا صحیح چلتا ہے کام صحیح کرتے ہو یہ سب خدا دے رہا ہے خدا کی وجہ سے کر رہے ہو اُس کی عطا پر کررہے ہو ذرا سی کل دماغ کی بگڑ جائے تو پاگل خانے میں جانا پڑتا ہے اَور وہ بہت ذرا سی ہوتی ہے دماغ میں جس کا پتہ بھی نہیں چلتا وہ ٹھیک ہو تو آدمی عقلمند ہے بہت بڑا عقلمند شمار ہوتا ہے فلسفی شمار ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِسلامی تعلیمات کی وجہ سے بڑی اِقتصادی مشکلات پیش نہیں آتیں : تو سب کچھ خدا کا ہے جو تمہارے پاس آئے اُس میں سے تم اِتنے فیصد خدا کے نام پر ضرور دیتے رہو