ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2011 |
اكستان |
|
نے کہا اپنے خیمہ میں بس رہتی تھیں منہ تو ڈھکنا ١ منع ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ سب کے سامنے آتی ہوں گی اِحرام میں، وہ کہتے ہیں نہیں کسی نے بھی نہیں دیکھا پردہ اِس طرح رکھتی تھیں کہ منہ ڈھکے بغیر بڑا پردہ جو وہ ہوجائے۔ مسروق ایک تابعی ہیں جلیل القدر عالِم ہیں علماء ِکوفہ میں، گویا اَسود نے بھی کوفہ کو وطن بنالیا تھا تو اہل ِکوفہ میں شمار ہوتے تھے مسروق سے اِتنا تعلق تھا اِنہیں کہ اُنہیں بیٹا بنا رکھا تھا متبنٰی لکھا ہے اُن کو مگر اُن کے سامنے بھی نہیں آتی تھیں سامنے کسی کے نہیں آتی تھیں۔ پردہ میں اِنتہائی احتیاط : حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جو بالکل بوڑھی ہو چکی تھیں اُن کا بھائی جو تھا اُس کے بارے میں اُس کے نسب کا شبہ ہوگیا تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اِس کے نسب کے بارے میں فلاں فلاں لوگ یہ کہتے ہیں تو اِس واسطے شرعی حکم تووہ نہیں ہوگا جو لوگ کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک آدمی سے سُنی ہوئی بات ہے اَور وہ مر چکا ہے اَوروہ کافر بھی تھا اَب یہ ہے کہ قرائن سے دیکھا جائے تو قرائن سے یہ ہے کہ واقعی اُس میں اُس آدمی کی شباہت ہے لہٰذا تم اُس سے پردہ کرومگر قضاء کا اَور شرعی حکم تو یہی رہے گاکہ یہ بھائی ہے تمہارا لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ پردہ کرو ۔اَب وہ کہتے ہیں کہ فَمَارَاَتْہُ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو پھر دیکھا ہی نہیں کبھی بھی زندگی بھر اَور اِسی طرح سے آتا ہے فَمَا رَاٰھَا اُنہوں نے بھی کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا حالانکہ اِحرام میں تو وہ بھی آئیں بھائی دیکھ سکتا تھا، حجة الوداع کے موقع پر وہ تھیں وہ بھی بھائی کو دیکھ سکتی تھیں مگر اَیسا نہیں ہوا گویا پردہ تھا۔ اَسود، علقمہ ،مسروق حضرت عائشہ کے شاگرد اَور اِمام اعظم کی رائے : بات علم کی ہورہی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شاگردوں میں اَسود بھی ہیں جو بہت بڑے ہیں حضرت ابن عمر جو بڑے درجہ کے صحابیوںمیں بھی ہیں صحابیوںمیں بھی محبوب صحابی ہیں اَوررسول اللہ ۖ کے ساتھ ہر جہاد میں حصہ لیتے رہے ہیں غزوۂ خندق کے موقع سے لے کر آگے تک، مقرب ترین لوگوں میں تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے،رسول اللہ ۖ سے رشتہ داری ہے رشتہ میں سالے بنتے ہیں مگراِمامِ اعظم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علقمہ جو ہیں لَیْسَ بِدُوْنِ اِبْنِ عُمَرَ وہ ابن عمر سے کم نہیں ١ یعنی چہرہ سے نقاب کا مس ہونا اِحرام میں منع ہے،چہرہ پر نقاب ڈالنا منع نہیں ہے بلکہ ضروری ہے۔