Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2011

اكستان

12 - 65
نے کہا اپنے خیمہ میں بس رہتی تھیں منہ تو ڈھکنا  ١  منع ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ سب کے سامنے آتی ہوں گی اِحرام میں، وہ کہتے ہیں نہیں کسی نے بھی نہیں دیکھا پردہ اِس طرح رکھتی تھیں کہ منہ ڈھکے بغیر بڑا پردہ جو وہ ہوجائے۔ مسروق ایک تابعی ہیں جلیل القدر عالِم ہیں علماء ِکوفہ میں، گویا اَسود نے بھی کوفہ کو وطن بنالیا تھا تو   اہل ِکوفہ میں شمار ہوتے تھے مسروق سے اِتنا تعلق تھا اِنہیں کہ اُنہیں بیٹا بنا رکھا تھا متبنٰی لکھا ہے اُن کو مگر اُن کے سامنے بھی نہیں آتی تھیں سامنے کسی کے نہیں آتی تھیں۔ 
پردہ میں اِنتہائی احتیاط  :
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جو بالکل بوڑھی ہو چکی تھیں اُن کا بھائی جو تھا اُس کے بارے میں اُس کے نسب کا شبہ ہوگیا تو رسول اللہ  ۖ  نے فرمایا کہ اِس کے نسب کے بارے میں فلاں فلاں لوگ یہ کہتے ہیں  تو اِس واسطے شرعی حکم تووہ نہیں ہوگا جو لوگ کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک آدمی سے سُنی ہوئی بات ہے اَور وہ مر چکا ہے اَوروہ کافر بھی تھا اَب یہ ہے کہ قرائن سے دیکھا جائے تو قرائن سے یہ ہے کہ واقعی اُس میں اُس آدمی کی شباہت ہے لہٰذا تم اُس سے پردہ کرومگر قضاء کا اَور شرعی حکم تو یہی رہے گاکہ یہ بھائی ہے تمہارا لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ پردہ کرو ۔اَب وہ کہتے ہیں کہ  فَمَارَاَتْہُ  حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو پھر دیکھا ہی  نہیں کبھی بھی زندگی بھر اَور اِسی طرح سے آتا ہے  فَمَا رَاٰھَا  اُنہوں نے بھی کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا  کو نہیں دیکھا حالانکہ اِحرام میں تو وہ بھی آئیں بھائی دیکھ سکتا تھا، حجة الوداع کے موقع پر وہ تھیں وہ بھی بھائی  کو دیکھ سکتی تھیں مگر اَیسا نہیں ہوا گویا پردہ تھا۔
اَسود، علقمہ ،مسروق   حضرت عائشہ  کے شاگرد اَور اِمام اعظم  کی رائے  :
 بات علم کی ہورہی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شاگردوں میں اَسود بھی ہیں جو بہت بڑے ہیں حضرت ابن عمر جو بڑے درجہ کے صحابیوںمیں بھی ہیں صحابیوںمیں بھی محبوب صحابی ہیں اَوررسول اللہ  ۖ  کے ساتھ ہر جہاد میں حصہ لیتے رہے ہیں غزوۂ خندق کے موقع سے لے کر آگے تک، مقرب ترین لوگوں میں تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے،رسول اللہ  ۖ سے رشتہ داری ہے رشتہ میں سالے بنتے ہیں  مگراِمامِ اعظم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علقمہ جو ہیں  لَیْسَ بِدُوْنِ اِبْنِ عُمَرَ  وہ  ابن عمر سے کم نہیں    
  ١  یعنی چہرہ سے نقاب کا مس ہونا اِحرام میں منع ہے،چہرہ پر نقاب ڈالنا منع نہیں ہے بلکہ ضروری ہے۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اپنی طرف سے دین میں اِضافہ اَور اُس کا نقصان : 8 3
5 اَذان میں بدعت اَور اُس کا نقصان : 8 3
6 ''حدیث کا نچوڑ'' منکرین ِ حدیث کی غلط فہمی : 8 3
7 گواہی میں حوصلہ بھی چاہیے : 9 3
8 دِن رات کی تمام نمازوں میں سب کی حاضری : 9 3
9 ناگواری کے باوجود منع نہیں فرمایا : 10 3
10 حضرت عائشہ کی رائے، عورتوں کا مسجد میں آنا : 10 3
11 علم و فضل عورتوں میں ہمیشہ سے رہا ہے ،حضرت عائشہ بحیثیت ِمعلمہ : 11 3
12 باپردہ تعلیم دیا کرتی تھیں : 11 3
13 پردہ میں اِنتہائی احتیاط : 12 3
14 اَسود، علقمہ ،مسروق حضرت عائشہ کے شاگرد اَور اِمام اعظم کی رائے : 12 3
15 قدرتی طور پر عورت مرد کی برابری نہیں کر سکتی : 14 3
16 عورتوں کی گواہی پر حدود نافذ نہیں کی جا سکتی ،تعزیر ہو سکتی ہے : 14 3
17 عقل کے کوروں کو قانونی حکمتیں سمجھ میں نہیں آتیں : 15 3
18 یورپ میں بھی عورت مرد کے برابر نہیں : 15 3
19 عورت کی نصف دیت میں مرد کا نقصان ہے عورت کا نہیں : 15 3
20 شیعوں کی بدعت : 16 3
21 حدیث میں درُود و دُعاء کا حکم اَذان کے بعد ہے بدعتیوں نے پہلے کر دیا : 16 3
23 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٤(قسط : ١) 18 1
24 اَصل وجہ : 19 23
25 اِسمبلی : 19 23
26 سیدھا راستہ : 19 23
27 . اَنفَاسِ قدسیہ 25 1
28 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 25 27
29 اِحیا ئِ سنت : 25 27
30 اِتباعِ سنت : 26 27
31 غیر اِختیاری سنت : 27 27
32 وفیات 28 1
33 تربیت ِ اَولاد 29 1
34 سختی کرنے کی ضرورت اَور اسکے طریقے، اِصلاح و تربیت کے لیے سختی کرنے کی ضرورت : 29 33
35 ضرورت کے وقت بچوں پرسختی نہ کرنا اُن کو خطرہ میںڈالناہے : 29 33
36 سزادینے کی مختلف صورتیں اَور بچوں کوسزادینے کے بہترین طریقے : 30 33
37 سختی کرنے کی حدود، سختی مقصود بالذات نہیں : 31 33
38 زیادہ سختی کرنے اَور مارنے کے نقصانات : 31 33
39 سزا دینے کے غلط طریقے : 31 33
40 ماں باپ کا ظلم اَور زیادتی : 32 33
41 سزا میں کتنی مار مار سکتے ہیں : 32 33
42 غصہ میں ہرگز نہیں مارنا چاہیے : 33 33
43 حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 34 1
44 اِصلاحِ عقائد : 34 43
45 عبادت : 34 43
46 صدقات و خیرات : 35 43
47 خوش خلقی : 36 43
48 ضبط و تحمل : 37 43
49 کتاب الفضائل : 38 43
50 اِنفرادی فضائل : 40 43
53 قسط : ١ اُستاذ العلماء والقراء حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب نور اللہ مرقدہ 41 1
54 حالات وخدمات 41 53
55 پیدائش : 41 53
56 تعلیم وتربیت: 41 53
57 اَساتذۂ کرام : 42 53
58 بیعت واِرَادَت : 43 53
59 مدرسۂ تعلیم القرآن شریفیہ: 43 53
60 امامت وخطابت : 46 53
61 تنظیم القراء والحفاظ: 46 53
62 قسط : ١ اِنسداد توہین ِرسالت قانون سے متعلق سوالوں کا تفصیلی جائزہ 47 1
63 علم و عرفان کا بحر بیکراں 55 1
64 شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی شمس الدین صاحب 55 1
65 دینی مسائل 59 1
66 دینی مسائل 59 65
67 ( وقف کا بیان ) 59 65
68 وقف مسجد کے دیگر اَحکام : 59 65
69 مسجد کی ہیئت اَور شکل وصورت : 62 65
70 مسجد کے آداب و اَحکام : 62 65
71 مسجد میں نقش و نگار بنانا : 63 65
72 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter