ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2011 |
اكستان |
|
فرماتے تھے جس راستے سے گزرتے کافی دیر تک راستہ معطر رہتا تھا۔ بیٹھنے میں دو زانو بیٹھتے تھے اِسی طرح چلنے میں ہمیشہ نیچی نگاہ کر کے چلتے تھے۔ راستے میں اگر کوئی چیز گری پاتے تو ہٹا دیتے تھے۔ اگر راستہ میں ذرا سا کاغذ کا ٹکڑا پڑا ہوتا تو اُسے اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیتے تھے۔ کبھی کسی سائل کا سوال رَد نہیں فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آ پ حدیث پڑھا کر تشریف لارہے تھے کہ ایک آدمی نے سوال کیا تو دس روپیہ کا نوٹ نکال کر عنایت فرمایا ۔اپنی حاجت کے لیے کبھی کسی سے سوال نہیں کرتے تھے۔ لوگ خواہش کرتے تھے کہ حضرت ہم سے کوئی کام لے لیں چنانچہ ایک مرتبہ مہابیر تیا گی (سابق وزیر دفاع ہند)حاضرہوئے اَور عرض کیا کہ حضور میری خواہش ہے کہ آپ مجھ سے کوئی خدمت لیں آپ نے اِرشاد فرمایا : تمہیں غیروں سے کب فرصت ، ہم اپنے غم سے کب خالی چلو بس ہو چکا ملنا ، نہ تم خالی نہ ہم خالی ہر آدمی کے ساتھ عنایت کا برتاؤ کرتے تھے ،ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ حضرت کو مجھ سے زیادہ تعلق ہے جب کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو لوگوں کو کھڑاہونے سے سختی سے منع فرماتے اَور فرماتے کہ حضور ۖ نے اِرشاد فرمایا ہے کہ لَا تَقُوْمُوْا کَمَا تَقُوْمُ الْاَعَاجِمُ مجلس میںکبھی نمایاں جگہ پر بیٹھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے مجبورًا کوئی بٹھا دے تو دُوسری بات ہے ،کبھی کسی کوپنکھا کرنے کی اِجازت نہ دیتے تھے اَور فرمایا کرتے تھے کہ کسی ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت ۖ نے کبھی پنکھا کرایا ہو۔تقریر فرماتے وقت کبھی آپ کو ہاتھ اِدھر اُدھرپھینکتے نہیں دیکھا (جیسا کہ آج کل مقرروں کا خلافِ سنت طریقہ ہے) بلکہ کبھی زیادہ ضرورت ہوتی تو کرسی یاچھڑی پر رکھے ہوئے دست ِمبارک کی اُنگلیوں سے اِشارہ فرمادیتے ۔ آپ اَندازہ لگائیں جب روزمرہ کی عام زندگی میں اِتباعِ سنت کا یہ حال ہے تو عبادات میں کیا حال ہوگا؟ غیر اِختیاری سنت : اِس عاشق رسول ۖ کا یہ حال دیکھ کرکچھ سنتوں کو اللہ تعالیٰ نے خود پورا کرنے کا اِنتظام کر دیا یعنی علاوہ جیل اَور پتھر اَورگالیاں کھانے کی سنتوں کے آنحضرت ۖ کی طرح آپ پر سحر بھی کرایاگیا