ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009 |
اكستان |
|
چار مہینے تک صحبت نہ کرے گا تو تیسری طلاق پڑ جائے گی اور دُوسرا خاوند کیے بغیر اُس سے نکاح بھی نہ ہوسکے گا البتہ اگر دُوسرے یا تیسرے نکاح کے بعد صحبت کر لیتا تو قسم ٹوٹ جاتی اور پھر طلاق نہ پڑتی ،ہاں قسم توڑنے کا کفارہ دینا ہوتا۔ تین طلاقیں پوری ہونے کے بعد دُوسرے خاوند سے نکاح کرنے اَور پھر اُس کے طلاق دینے کے بعد دوبارہ پہلے شوہر سے نکاح کرے گی تو اَب ایلاء نہ رہے گا۔ مسئلہ : ہمیشہ کی قسم کھانے بعد چار مہینے گزر گئے اَور عورت کو ایک طلاقِ بائنہ ہو گئی۔ عدت کے بعد عورت نے کسی دُوسرے مرد سے نکاح کر لیا پھر اُس سے طلاق ملنے کے بعد اَور عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر لیا تو ایلاء باقی ہے۔ مسئلہ : اگر عورت کو طلاقِ بائن دے دی پھر اُس سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھائی تو اِیلاء نہیں ہوا۔ اَب پھر سے نکاح کرنے کے بعد اگر صحبت نہ کرے تو طلاق نہ پڑے گی لیکن جب صحبت کر ے گا تو قسم توڑنے کا کفارہ دینا پڑے گا۔اگر طلاق ِ رجعی دے دینے کے بعد عدت کے اَندر ایسی قسم کھائی تو اِیلاء ہوگیا۔ اَب اگر رجعت کرلے اور صحبت نہ کرے تو چار مہینے کے بعد طلاق پڑ جائے گی اور اگر صحبت کرے تو قسم کا کفارہ دے۔ مسئلہ : خدا کی قسم نہیں کھائی بلکہ یوں کہا کہ اگر تجھ سے صحبت کروں تو تجھ کو طلاق ہے تب بھی اِیلاء ہوگیا۔ صحبت کرے گا تو اَبھی طلاق پڑ جائے گی اور قسم کا کفارہ اِس صورت میں نہ دینا پڑے گا اور اگر صحبت نہ کی تو چار مہینے کے بعد طلاق بائن پڑجائے گی۔ مسئلہ : اَور اگر یوں کہا اگر تجھ سے صحبت کروں تو میرے ذمہ ایک حج ہے یا ایک عمرہ ہے یا ایک روزہ ہے یا ہزار روپیہ خیرات ہے یا ایک قربانی ہے یا سو رکعت نماز ہے یعنی ایسی بات جو مشقت والی بھی ہو اور نذر سے لازم بھی ہوجاتی ہو، اِن صورتوں میں بھی ایلاء ہوگیا۔ اگرصحبت کرے گا تو جو بات کہی ہے وہ کرنا ہوگی اَور کفارہ نہ دینا پڑے گا اور اگر صحبت نہ کی تو چار مہینے گزر نے پر طلاق بائن پڑ جائے گی۔ اور اگر کوئی ایسی بات کہی جو مشقت والی نہ ہو اگر چہ لازم ہوجاتی ہو مثلاً یوں کہا اگر میں تم سے صحبت کروں تو میرے ذمہ دو رکعت نماز ہے یا ایک روپیہ خیرات ہے تو اِیلاء نہ ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی ایسی بات کہی جو مشقت والی تو ہو لیکن لازم نہ ہو مثلاً یوں کہا اگر میں تجھ سے صحبت کروں تو میرے ذمہ ایک ہزار مرتبہ وضو ہے