Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009

اكستان

58 - 64
  دینی مسائل 
(  اِیلاء یعنی بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھانا  ) 
مسئلہ  :  جس نے قسم کھالی اَور یوں کہہ دیا کہ خدا کی قسم اَب صحبت نہ کروں گا۔ خدا کی قسم تجھ سے  کبھی صحبت نہ کروں گا۔ قسم کھاتا ہوں کہ تجھ سے صحبت نہ کروں گا یا کسی اَور طرح کہا تو اِس کا حکم یہ ہے کہ اگر  اُس نے صحبت نہ کی تو چار مہینے گزر نے پر عورت پر طلاق بائن ہوجائے گی۔ اَب نکاح کیے بغیر میاں بیوی کی طرح نہیں رہ سکتے اَور اگر چار مہینے کے اَندر ہی اَندر اُس نے اپنی قسم توڑ ڈالی اَور صحبت کر لی تو طلاق نہ پڑے  گی البتہ قسم توڑنے کا کفارہ دینا پڑے گا ایسی قسم کھانے کو شرع میں'' اِیلائ'' کہتے ہیں۔ 
مسئلہ  :  ہمیشہ کے لیے صحبت نہ کرنے کی قسم نہیں کھائی بلکہ فقط چار مہینے کے لیے قسم کھائی اور یوں کہا خدا کی قسم چار مہینے تک تجھ سے صحبت نہ کروں گا تو اِس سے اِیلاء ہوگیا اِس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار مہینے تک  صحبت نہ کر ے تو طلاق بائن پڑ جائے گی اور اگر چار مہینے سے پہلے صحبت کر لے تو قسم کا کفارہ دے۔ 
مسئلہ  :  اگر چار مہینے سے کم کے لیے قسم کھائی تواِس کا کچھ اعتبار نہیں اِس سے اِیلاء نہ ہوگا،چار مہینے سے ایک دن بھی کم کر کے قسم کھائے تب بھی اِیلاء نہ ہو گا البتہ جتنے دنوں کی قسم کھائی ہے اُتنے دِنوں سے پہلے پہلے صحبت کرے گا تو قسم توڑ نے کا کفارہ دینا پڑے گا اَور اگر صحبت نہ کی تو عورت کو طلاق نہ پڑے گی اَور قسم  بھی پوری رہے گی۔ 
مسئلہ  :  کسی نے فقط چار مہینے کے لیے قسم کھائی پھر اپنی قسم نہیں توڑی اِس لیے چار مہینے کے بعد طلاق پڑ گئی اَور طلاق کے بعد پھر اُسی مرد سے نکاح ہو گیا تو اَب اِس نکاح کے بعد اگر چار مہینے تک صحبت نہ کرے تو کچھ حرج نہیں اَب کچھ نہ ہوگا۔ اَور اگر ہمیشہ کے لیے قسم کھائی جیسے یوں کہہ دیا قسم کھاتا ہوں کہ اَب تجھ سے صحبت نہ کروں گا یا یوں کہا خدا کی قسم تجھ سے کبھی صحبت نہ کروں گا پھر اپنی قسم نہیں توڑی اور چار مہینے بعد طلاق پڑ گئی اِس کے بعد پھر اُس سے نکاح کرلیا اور نکاح کے بعد پھر چار مہینے تک صحبت نہیں کی تو اَب پھر دُوسری طلاق پڑگئی۔ اگر تیسری دفعہ پھر اُسی سے نکاح کر لیا تو اُس کا بھی یہی حکم ہے کہ اِس نکاح کے بعد اگر
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 10 1
4 حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اَور ہجرت : 11 3
5 ہجرت بہت مشکل کام ہے : 11 3
6 ہجرت نہ کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم : 11 3
7 مہاجرین کا ثواب دَوگنا 12 3
8 حضرت عمر پر حضرت اسماء کا غصہ اَوردربار ِعالی میں پیشی : 12 3
9 دربارِ نبوی سے تسلی بخش جواب پر جشن 13 3
10 اِسہال کا طریقہ ..... سنا کو پسند اَور شُبرم کو ناپسند فرمایا 14 3
12 جمال گوٹا اَور سبق آموز واقعہ : 14 3
13 مریض کی عمر کا لحاظ رکھنے کی حکمت 15 3
14 ملفوظات شیخ الاسلام 16 1
15 علمی مضامین 18 1
16 چندضروری مسائلِ حج 18 1
17 اَب حسب ِذیل مسائل سمجھئے 20 16
18 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
19 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 21 18
20 سخاوت : 21 18
21 شعر اَور طب 21 18
22 خوف ِ خدا اَور فکر ِ آخرت 23 18
23 تربیت ِ اَولاد 24 1
24 پیدائش اَور اُس کی متعلقات 24 23
25 پہلا لڑکا باپ کے گھر میں ہونے کو ضروری سمجھنا : 25 23
26 بچہ پیدا ہوتے وقت ستر اور پردہ پوشی کے ضروری احکام 25 23
27 مسنون طریقہ : 26 23
28 تحنِیک 26 23
29 قومیت و صوبا ئیت اَور زبان ورنگ کے تعصّب کی اِصلاح 27 1
30 جنت میں کوئی صوبہ نہیں 27 29
31 زبان اَور رنگ اللہ تعالیٰ کی دو عظیم الشان نشانیاں ہیں : 28 29
32 عصبیت کفر کی نشانی ہے 30 29
33 اَلوَداعی خطاب 34 1
34 حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی تین بددُعائیں 35 33
35 بڑے حضرت کے بدخواہوں کا انجام : 35 33
36 مخلص کی تنقید برداشت اَور بدخواہ کی نظراَنداز کریں 36 33
37 سب موافق ہونے کا نقصان : 36 33
38 تنقید برداشت کرنے کا مادّہ پیدا کریں 36 33
39 حضرت سعد کی اعلیٰ سیاسی بصیرت 37 33
40 ضروری بات : 39 33
41 احسان'' کا مطلب : 40 33
42 نبی علیہ السلام کی حیات میں مرتبہ احسان کا حصول : 40 33
43 جس کی تصوف سے آشنائی نہیں وہ کیا رائے دے سکتا ہے : 41 33
44 نبی علیہ السلام کے بعد بہت ریاضت کی ضرورت ہے : 41 33
45 فرصت کو غنیمت جانیں ،ریاضت و محنت کریں 42 33
46 شب ورَوز کے کچھ معمولات : 43 33
47 بقیہ : تربیت ِ اَولاد 43 23
48 بچہ کے کان میں اَذان و تکبیر کہنے کی حکمت : 43 23
50 گلدستہ ٔ اَحادیث 44 1
51 عود ِ ہندی میں سات بیماریوں سے شفاء ہے : 44 50
52 حضرت اَبوذر رضی اللہ عنہ کو سات باتوں کا حکم : 44 50
53 ہر نبی کو سات مخصوص لوگ عطا کیے جاتے تھے : 45 50
54 چار رَوز اُندلس میں 47 1
56 قرطبہ : 51 54
57 جامع مسجد قرطبہ : 53 54
58 خانقاہ ِحامدیہ اور رمضان المبارک 61 1
59 وفیات 62 1
Flag Counter