ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
اُمت ِمسلمہ کی مائیں قسط : ٨ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی صاحب بلند شہری ) . شعر اَور طب : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مریضوں کے معالجات میں اَور اشعار عرب یاد رکھنے میں بھی خاص ملکہ رکھتی تھیں اُن کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکو جب کوئی حادثہ پیش آجا تا تھا تو اُس کے متعلق ضرور شعر پڑھ دیتی تھیں۔ یہ بھی حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا اِرشاد ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے بڑھ کر قرآن کا عالم اور فرائض ِ اِسلام اور حلال وحرام کا جاننے والا اور عرب کے واقعات اور اہل عرب کے نسب سے واقفیت رکھنے ولا نہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اماں جان! مجھے آپ کے فقیہ ہونے پر تعجب نہیں ہے کیونکہ آپ رسول اللہ ۖ کی بیوی ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں اور نہ مجھے آپ کی شعر دانی اور واقعات ِ عرب کی واقفیت پر تعجب ہے کیونکہ آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ،اُن کی صحبت سے یہ چیزیں حاصل ہوگئیں لیکن مجھے تعجب ہے کہ آپ کو طب سے کیونکر واقفیت ہوئی؟ اِس کے جواب میں حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کے کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ عروہ بیٹا !طب میں نے اِس طرح سیکھی کہ آنحضرت ۖ آخری عمر میں بیمار ہوجایا کرتے تھے اورلوگ دُور دُور سے آیا کرتے تھے وہ آپ کو علاج کے طریقے اور دوائیں بتاتے تھے اور میں اُن کے ذریعے آپ ۖ کا علاج کر تی تھی۔(صفة الصفوة ) سخاوت : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بڑی سخی تھیں اور اُن کی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بھی سخاوت میں بڑا مرتبہ رکھتی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے (جو حضرت اسماء کے بیٹے تھے) کہ میں نے