Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009

اكستان

45 - 64
حضرت ابو ذر غِفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (حضرت محمد  ۖ نے سات باتوں کا حکم دیا ہے چنانچہ آپ نے مجھے ایک حکم تو یہ دیا کہ میں مساکین سے محبت کروں اور اُن سے قربت رکھوں، دُوسرا حکم یہ دیا کہ میں اُس شخص کی طرف دیکھوں جو (دُنیاوی اعتبار سے ) مجھ سے کمتر ہے اَور اُس کی طرف نہ دیکھوں جو (مال و جاہ میں ) مجھ سے بڑھ کر ہے، تیسرا حکم یہ دیا کہ میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا رہوں اگرچہ  رشتہ دار قرابت داری کو ختم کیوں نہ کریں، چوتھا حکم یہ دیا کہ میں کسی سے کوئی چیز نہ مانگوں، پانچو اں حکم یہ دیا کہ میں (ہر حال میں) حق اَور سچ کہوں اگرچہ وہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو، چھٹا حکم یہ دیا کہ میں اللہ ( کے دین ) کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں،ساتواں حکم یہ دیا کہ میں کثرت کے ساتھ  لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلاَّ باِللّٰہْ  پڑھا کروں کیونکہ یہ کلمات اُس خزانے کے ہیں جو عرش ِ الٰہی کے نیچے ہے۔
ہر نبی کو سات مخصوص لوگ عطا کیے جاتے تھے  :
عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ  ۖ  اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍ سَبْعَةَ  نُجَبَائَ وَرُقَبَائَ  وَ اُعْطِیْتُ اَنَا  اَرْبَعَةَ عَشَرَ، قُلْنَا مَنْ ھُمْ؟ قَالَ اَنَا وَابْنَا یَ وَ جَعْفَرُ وَ حَمْزَ ةُ وَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ مُصْعَبُ بْنُ عُمِیْرٍ وَ بِلَال وَّ َسلْمَانُ وَّ عَمَّار وَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ وَّ اَبُوْ ذَرٍّ وَّ الْمِقْدَادُ۔( ترمذی بحوالہ مشکوة  ص ٥٨٠)
 حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ۖ نے فرمایا  :  ہر نبی کو سات مخصوص وبرگزیدہ ترین اَور (ہر حال میں اُس نبی کی ) نگہبانی اَور حفاظت کرنے والے لوگ عطا کیے جاتے تھے لیکن مجھے ایسے چودہ لوگ (یعنی دو چند) عطا کیے گئے ہیں، (راوی کہتے ہیں کہ) ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا وہ کون کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ایک تو میں اَور میرے دونوں بیٹے (حسن  اَور حسین ) ہیں، چوتھے جعفر (بن ابی طالب) ہیں ، پانچویں حمزہ (بن عبدالمطلب) ہیں،چھٹے ابوبکر ہیں، ساتویں عمر ہیں، آٹھویں مصعب بن عمیر ہیں، نویں بلال( حبشی )ہیں، دسویں سلمان (فارسی )ہیں،
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 10 1
4 حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اَور ہجرت : 11 3
5 ہجرت بہت مشکل کام ہے : 11 3
6 ہجرت نہ کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم : 11 3
7 مہاجرین کا ثواب دَوگنا 12 3
8 حضرت عمر پر حضرت اسماء کا غصہ اَوردربار ِعالی میں پیشی : 12 3
9 دربارِ نبوی سے تسلی بخش جواب پر جشن 13 3
10 اِسہال کا طریقہ ..... سنا کو پسند اَور شُبرم کو ناپسند فرمایا 14 3
12 جمال گوٹا اَور سبق آموز واقعہ : 14 3
13 مریض کی عمر کا لحاظ رکھنے کی حکمت 15 3
14 ملفوظات شیخ الاسلام 16 1
15 علمی مضامین 18 1
16 چندضروری مسائلِ حج 18 1
17 اَب حسب ِذیل مسائل سمجھئے 20 16
18 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
19 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 21 18
20 سخاوت : 21 18
21 شعر اَور طب 21 18
22 خوف ِ خدا اَور فکر ِ آخرت 23 18
23 تربیت ِ اَولاد 24 1
24 پیدائش اَور اُس کی متعلقات 24 23
25 پہلا لڑکا باپ کے گھر میں ہونے کو ضروری سمجھنا : 25 23
26 بچہ پیدا ہوتے وقت ستر اور پردہ پوشی کے ضروری احکام 25 23
27 مسنون طریقہ : 26 23
28 تحنِیک 26 23
29 قومیت و صوبا ئیت اَور زبان ورنگ کے تعصّب کی اِصلاح 27 1
30 جنت میں کوئی صوبہ نہیں 27 29
31 زبان اَور رنگ اللہ تعالیٰ کی دو عظیم الشان نشانیاں ہیں : 28 29
32 عصبیت کفر کی نشانی ہے 30 29
33 اَلوَداعی خطاب 34 1
34 حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی تین بددُعائیں 35 33
35 بڑے حضرت کے بدخواہوں کا انجام : 35 33
36 مخلص کی تنقید برداشت اَور بدخواہ کی نظراَنداز کریں 36 33
37 سب موافق ہونے کا نقصان : 36 33
38 تنقید برداشت کرنے کا مادّہ پیدا کریں 36 33
39 حضرت سعد کی اعلیٰ سیاسی بصیرت 37 33
40 ضروری بات : 39 33
41 احسان'' کا مطلب : 40 33
42 نبی علیہ السلام کی حیات میں مرتبہ احسان کا حصول : 40 33
43 جس کی تصوف سے آشنائی نہیں وہ کیا رائے دے سکتا ہے : 41 33
44 نبی علیہ السلام کے بعد بہت ریاضت کی ضرورت ہے : 41 33
45 فرصت کو غنیمت جانیں ،ریاضت و محنت کریں 42 33
46 شب ورَوز کے کچھ معمولات : 43 33
47 بقیہ : تربیت ِ اَولاد 43 23
48 بچہ کے کان میں اَذان و تکبیر کہنے کی حکمت : 43 23
50 گلدستہ ٔ اَحادیث 44 1
51 عود ِ ہندی میں سات بیماریوں سے شفاء ہے : 44 50
52 حضرت اَبوذر رضی اللہ عنہ کو سات باتوں کا حکم : 44 50
53 ہر نبی کو سات مخصوص لوگ عطا کیے جاتے تھے : 45 50
54 چار رَوز اُندلس میں 47 1
56 قرطبہ : 51 54
57 جامع مسجد قرطبہ : 53 54
58 خانقاہ ِحامدیہ اور رمضان المبارک 61 1
59 وفیات 62 1
Flag Counter