ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009 |
اكستان |
|
حضرت ابو ذر غِفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (حضرت محمد ۖ نے سات باتوں کا حکم دیا ہے چنانچہ آپ نے مجھے ایک حکم تو یہ دیا کہ میں مساکین سے محبت کروں اور اُن سے قربت رکھوں، دُوسرا حکم یہ دیا کہ میں اُس شخص کی طرف دیکھوں جو (دُنیاوی اعتبار سے ) مجھ سے کمتر ہے اَور اُس کی طرف نہ دیکھوں جو (مال و جاہ میں ) مجھ سے بڑھ کر ہے، تیسرا حکم یہ دیا کہ میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا رہوں اگرچہ رشتہ دار قرابت داری کو ختم کیوں نہ کریں، چوتھا حکم یہ دیا کہ میں کسی سے کوئی چیز نہ مانگوں، پانچو اں حکم یہ دیا کہ میں (ہر حال میں) حق اَور سچ کہوں اگرچہ وہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو، چھٹا حکم یہ دیا کہ میں اللہ ( کے دین ) کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں،ساتواں حکم یہ دیا کہ میں کثرت کے ساتھ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلاَّ باِللّٰہْ پڑھا کروں کیونکہ یہ کلمات اُس خزانے کے ہیں جو عرش ِ الٰہی کے نیچے ہے۔ ہر نبی کو سات مخصوص لوگ عطا کیے جاتے تھے : عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ۖ اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍ سَبْعَةَ نُجَبَائَ وَرُقَبَائَ وَ اُعْطِیْتُ اَنَا اَرْبَعَةَ عَشَرَ، قُلْنَا مَنْ ھُمْ؟ قَالَ اَنَا وَابْنَا یَ وَ جَعْفَرُ وَ حَمْزَ ةُ وَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ مُصْعَبُ بْنُ عُمِیْرٍ وَ بِلَال وَّ َسلْمَانُ وَّ عَمَّار وَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ وَّ اَبُوْ ذَرٍّ وَّ الْمِقْدَادُ۔( ترمذی بحوالہ مشکوة ص ٥٨٠) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : ہر نبی کو سات مخصوص وبرگزیدہ ترین اَور (ہر حال میں اُس نبی کی ) نگہبانی اَور حفاظت کرنے والے لوگ عطا کیے جاتے تھے لیکن مجھے ایسے چودہ لوگ (یعنی دو چند) عطا کیے گئے ہیں، (راوی کہتے ہیں کہ) ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا وہ کون کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ایک تو میں اَور میرے دونوں بیٹے (حسن اَور حسین ) ہیں، چوتھے جعفر (بن ابی طالب) ہیں ، پانچویں حمزہ (بن عبدالمطلب) ہیں،چھٹے ابوبکر ہیں، ساتویں عمر ہیں، آٹھویں مصعب بن عمیر ہیں، نویں بلال( حبشی )ہیں، دسویں سلمان (فارسی )ہیں،