ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
¾اكستان Ù |
|
وَخَرَجَ اِلَی الْمَسْجِدِ وَقَالَ ھٰذَا اَمْرُکُمْ لَیْسَ لِاَحَدٍ فِیْہِ حَقّ اِلَّا مَنْ اَرَدْتُّمْ وَقَدِ افْتَرَقْنَا اَمْسِ وَاَنَا کَارِہ فَاَبَیْتُمْ اِلَّا اَنْ اَکُوْنَ عَلَیْکُمْ فَقَالُوْا نَحْنُ عَلٰی مَاافْتَرَقْنَا عَلَیْہِ بِالْاَمْسِ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ ۔ ( تاریخ ابن خلدون ص ١٥١ ج٢) مسجد میں تشریف لے گئے اور فرمایا یہ معاملہ ایسا ہے کہ اِس میں تمہارے سوا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ کل جس وقت میں اور آپ الگ ہوئے تھے اُس وقت میں اپنے لیے خلافت ناپسند کررہا تھا اور آپ کہہ رہے تھے کہ میں ہی تمہارا خلیفہ بنوں۔ یہ حضرات کہنے لگے کہ ہم اِسی بات پر قائم ہیںجس پر کل ہم رُخصت ہوئے۔ آپ نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ رہ۔ غرض : عباسی صاحب کا یہ دعوی کہ اہل ِ حل و عقد کی اکثریت نے بیعت نہیں کی تھی، بے تحقیق بات ہے۔ اپنے ذہن کی ایجاد ہے، ائمہ اہل سنت اِس کے قائل نہیں ہیں۔ مسلک اہل ِ سُنّت وہی ہے جو تاریخ سے ہم نے لکھا ہے اور کتب فقہ ائمہ اربعہ میں موجود ہے۔ علماء کرام اَبواب البغاة ملاحظہ فرمائیں کہ سب ائمہ نے خلیفہ برحق کسے مانا ہے اور باغی کسے قرار دیا ہے۔ مسلمان باغیوں کے احکام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے اِرشادات ہی سے لیے گئے ہیں۔ بیعت ابن ِعمر رضی اللہ عنہما : اَب رہا یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کیوں بیعت کی اور کیوں اہل ِ مدینہ کے ساتھ مل کر نہیں توڑی بلکہ اِس کی مخالفت کی؟ تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کافی عرصہ قبل جان چکے تھے کہ یہ لوگ حکومت ہرگز نہیں چھوڑیں گے چاہے جو ہوجائے۔ وہ نہ اہل مدینہ کی رعایت کریں گے نہ اہل مکہ کی اور نہ حرمین کا احترام کریں گے اور اہل ِ مدینہ بلا احترام جنگ نہیں جیت سکتے اِس لیے خونریزی فضول ہوگی جس سے بچنا چاہیے۔ ایسے ہی حالات دیکھ کر وہ بہت عرصہ قبل سیاسیات سے کنارہ کش ہوگئے تھے جس کی وجہ ایک واقعہ تھا جو اُن کے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان گزرا تھا۔ جس کی تفصیل میں عرض کرتا ہوں۔مگر اِس سے پہلے اِس گفتگو کا پس منظر بھی جو آگے بحوالہ ٔ بخاری شریف آنے والی ہے۔