ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
¾اكستان Ù |
|
بات یہ تھی کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بات دیکھ کر طے کیا تھا کہ ہم سب جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے۔ انہوں نے پوری مملکت شام اور اُس سے آگے ترکی کا علاقہ بھی فتح کیا۔ اس لیے بنواُمیہ کا خیال یہ ہوگیا تھا کہ حکومت ہم زیادہ بہتر طرح کرسکتے ہیں۔ وہ خود کو اِس کا مستحق سمجھنے لگے تھے اور اِس کا اظہار بھی کرتے تھے۔ اِس کے بعد حضرت ابن عمر و معاویہ رضی اللہ عنہم کا واقعہ نقل کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ اپنے ابتدائی دور میں ایک مرتبہ سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ شریف تشریف لائے تو اُنہوں نے ابن ِ عمر سے تنہائی میں ایسے ہی خیالات کا اظہار فرمایا تھا،مگر بڑے سخت الفاظ میں۔بخاری شریف میں ہے : عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَنَوْسَاتُھَا تَنْطِفُ قُلْتُ قَدْ کَانَ مِنْ اَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَیْنَ فَلَمْ یُجْعَلْ لِّیْ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئ فَقَالَتْ اِلْحَقْ فَاِنَّھُمْ یَنْتَظِرُوْنَکَ وَاَخْشٰی اَنْ یَّکُوْنَ فِی احْتِبَاسِکَ عَنْھُمْ فُرْقَة فَلَمْ تَدَعْہُ حَتّٰی ذَھَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعٰوِیَةُ قَالَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَکَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ فَلْیُطْلِعْ لَنَا قَرْنَہ فَلَنَحْنُ اَحَقُّ مِنْہُ وَمِنْ اَبِیْہِ قَالَ حَبِیْب بْنُ مَسْلَمَةَ فَھَلَّا اَجَبْتَہ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَحَلَّلْتُ حَبْوَتِیْ وَھَمَّمْتُ اَنْ اَقُوْلَ اَحَقُّ بِھٰذَا الْاَمْرِ مِنْکَ مَنْ قَاتَلَکَ وَاَبَاکَ عَلَی الْاِسْلَامِ فَخَشِیْتُ اَنْ اَقُوْلَ کَلِمَةً تُفَرِّقُ بَیْنَ الْجَمِیْعِ وَتَسْفِکُ الدَّمَ وَیُحْمَلُ عَنِّیْ غَیْرُ ذٰلِکَ فَذَکَرْتُ مَا اَعَدَّ اللّٰہُ فِی الْجَنَانِ قَالَ حَبِیْب حَفِظْتَ وَعَصَمْتَ۔ (بخاری شریف ص ٥٩٠ ج٢ باب غزوة الخندق) ''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ (اُم المؤمنین ) کے پاس گیا، وہ سر دھوکر فارغ ہوئی تھیں، اُن کی لمٹوں سے پانی ٹپک رہا تھا، میں نے کہا لوگوں کا معاملہ جو ہوا وہ آپ نے دیکھ ہی لیا ہے مجھے کوئی کام تفویض نہیں کیا گیا۔ وہ فرمانے لگیں کہ تم وہیں جائو وہ تمہارے انتظار میں ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ تم اگر اُن کے پاس جانے سے رُکے رہے تو لوگوں میں افتراق پیدا ہوگا، اُنہوں نے (ان پر اتنا