ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
اكستان |
|
اور ابن خلدون لکھتے ہیں : ان باغیوں نے اہل ِ مدینہ کو جمع کیا اور کہا کہ آپ لوگ اہل شورٰی ہیں۔ آپ لوگوں کا حکم پوری اُمت پر چلتا ہے اِس لیے اب ''عقد ِامامت'' (تقرر خلیفہ) کرو ہم اس میں تمہاری پیروی کریں گے۔ ہم تمہیں دو دن کی مہلت دیتے ہیں اور اگر تم نے دو دن میں یہ کام انجام نہ دیا تو ہم فلاں فلاں اکابر کو قتل کردیں گے۔ لوگ حضرت علی کے پاس آئے۔ انہوں نے معذرت کی اور رُکے۔ اُن لوگوں نے آپ کو اسلام کے اس اہم کام کے لیے خدا کا خوف دلایا۔ آپ نے اُن سے اگلے دن کا وعدہ کرلیا۔ (تاریخ ابن خلدون۔ بیعة علی ص ١٥١ ج٢) ابن خلدون ہی نے لکھا ہے : جب حضرت عثمان شہید کردیے گئے تو حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرات مہاجرین و انصار حضرت علی کے پاس آئے کہ بیعت کریں۔ انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا : اَکُوْنُ وَزِیْرًا لَّکُمْ خَیْر مِّنْ اَنْ اَکُوْنَ اَمِیْرًا۔ وَمَنِ اخْتَرْتُمْ رَضِیْتُہ فَاَلَحُّوْا عَلَیْہِ وَقَالُوْا لَانَعْلَمُ اَحَقَّ مِنْکَ وَلَا نَخْتَارُ غَیْرَکَ حَتّٰی غَلَبُوْہُ فِیْ ذٰلِکَ فَخَرَجَ اِلَی الْمَسْجِدِ وَبَایَعُوْہُ وَاَوَّلُ مَنْ بَایَعَہ طَلْحَةُ وَالزُّبَیْرُ بَعْدَ اَنْ خَیَّرَھُمَا۔ (ابن خلدون ص ١٥٠ ج ٢) میں آپ کا وزیر رہوں یہ بہتر ہوگا بہ نسبت اِس کے کہ امیر بنوں۔ آپ حضرات جسے بھی چن لیں گے میں برضا قبول کروں گا۔ اُن حضرات نے حضرت علی ہی پر اِصرار کیا۔ کہنے لگے آپ سے زیادہ حقدار ہماری دانست میں اور کوئی نہیں ہے۔ آپ کے سوا ہم کسی کو منتخب نہیں کریں گے حتّٰی کہ یہ حضرات گفتگو میں غالب آگئے تب آپ مسجد میں تشریف لے گئے۔ اُن لوگوں نے بیعت کی، سب سے پہلے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے بیعت کی۔ حضرت علی اِن دونوں حضرات سے اَمارت قبول کرلینے کی پہلے ہی درخواست کرچکے تھے۔