ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
اكستان |
|
بارے میں یہ فرماتے تھے۔ تو عبد اللہ بن سلام دونوں کام کرتے رہے، ایک تو شہادتِ عثمان سے روکتے رہے اور کہتے رہے کہ بس یہ چند دِن کے مہمان ہیں، اگر نہ مارو تو خود بھی چلے جائیں گے۔ اُدھر حضرت علی کو روکتے رہے کہ آپ نہ جائیں عراق کی طرف۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ۖ نے بتلایا تھا کہ میری موت نہیں ہوگی جب تک کہ میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، جب اِتنا بتلایا تو اُس سے پھر زیادہ بھی بتلایا ہوگا، یہ وہ ہے جو اُنہوں نے ظاہر کیا اُن کی بات کے جواب میں اور پھر چلے گئے۔ باغی قرآن کی تفسیر اپنی سمجھ سے کرتے تھے : بہرحال حضرتِ علی کی رائے کی بات کررہا تھا میں، کہ وہ دوباتیں فرماتے تھے ایک تو یہ کہ یہ قرآنِ پاک کی جو اِنہوں نے تفسیر کی ہے اپنی رائے سے اُس میں ٹھوکر کھائی ہے۔ یہ جو باغی تھے یہ قرآنِ پاک کی تفسیر اپنی رائے سے کرتے تھے، صحابہ سے نہیں پوچھتے تھے، اُس میں ٹھوکر کھائی تھی اِنہوں نے۔ تو اَخْطَأُ وْا فِی التَّأْوِیْلِ قرآنِ پاک کی توجیہات میں اِن سے غلطی ہوئی۔ دُوسری بات جب اَگلا موقع آیا بیعت ہونے کے بعد تو پھر اُنہوں نے یہ کہا کہ جن لوگوں نے اِرتکابِ قتل کیا ہے وہی ماخوذ ہوسکتے ہیں، اُن میں محمد بن ابی بکر کا نام آتا ہے۔تو وہ تفتیش کے لیے پہنچے نائلہ کے پاس۔ نائلہ نو مسلم بیوی تھیں حضرتِ عثمان رضی اللہ عنہ کی۔ عیسائی تھیں پہلے پھر وہ مسلمان ہوئیں۔ تو اُن سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں یہ آئے تھے ۔کیا یہ مارنے والوںمیں تھے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ میں مارنے والوں میں نہیں ہوں ،حضرتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب میں نے گستاخی کی تو اُنہوں نے ایسے جملے کہے کہ مجھے شرم آئی تو میں لوٹ گیا اور میں نے اُن لوگوں کو اِشارہ بھی کیا ہے واپس جانے کا۔ تو میں تو چلاگیا، میرے جانے کے بعد شہادت ہوئی۔ تو اُنہوں (حضرت نائلہ) نے کہا کہ یہ ٹھیک بات کہی اِس نے وَلٰکِنَّہ اَدْخَلَھُمَا اُن دو آدمیوں کو جو اِس نے اندر پہنچایا تو اِسی نے پہنچایا، تیسرا یہ خود تھا، تو پھر اَب اُس کو ماردیا جائے۔ جب وہ صفائی دے رہی ہیں کہ یہ چلاگیا تھا تو قتل کا مرتکب وہ نہیں رہا اور اُنہوں نے آکر یہ حرکت کردی اِس طرح سے۔ باقی سارے کے سارے جو تھے اُنہوں نے سب نے طے کیا ہوا تھا کہ گھیرائو کرنا ہے اور استعفٰی لینا ہے، استعفٰی اُنہوں نے دیا نہیں۔ وہ بھی وجہ بتاتے تھے رسول اللہ ۖ نے مجھے یہ فرمایا تھا (کہ خلافت ملنے کے بعد دستبردار مت ہونا) تو اَب اِس سارے کے سارے گروہ سے نہیں بدلہ لیاجاسکتا۔