Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007

اكستان

11 - 64
بارے میں یہ فرماتے تھے۔ تو عبد اللہ بن سلام دونوں کام کرتے رہے، ایک تو شہادتِ عثمان سے روکتے رہے اور کہتے رہے کہ بس یہ چند دِن کے مہمان ہیں، اگر نہ مارو تو خود بھی چلے جائیں گے۔ اُدھر حضرت علی   کو روکتے رہے کہ آپ نہ جائیں عراق کی طرف۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ  ۖ  نے بتلایا تھا کہ میری موت نہیں ہوگی جب تک کہ میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، جب اِتنا بتلایا تو اُس سے پھر زیادہ بھی بتلایا ہوگا، یہ وہ ہے جو اُنہوں نے ظاہر کیا اُن کی بات کے جواب میں اور پھر چلے گئے۔ 
باغی قرآن کی تفسیر اپنی سمجھ سے کرتے تھے  : 
بہرحال حضرتِ علی   کی رائے کی بات کررہا تھا میں، کہ وہ دوباتیں فرماتے تھے ایک تو یہ کہ یہ قرآنِ پاک کی جو اِنہوں نے تفسیر کی ہے اپنی رائے سے اُس میں ٹھوکر کھائی ہے۔ یہ جو باغی تھے یہ قرآنِ پاک کی تفسیر اپنی رائے سے کرتے تھے، صحابہ سے نہیں پوچھتے تھے، اُس میں ٹھوکر کھائی تھی اِنہوں نے۔ تو  اَخْطَأُ وْا فِی التَّأْوِیْلِ قرآنِ پاک کی توجیہات میں اِن سے غلطی ہوئی۔ 
دُوسری بات جب اَگلا موقع آیا بیعت ہونے کے بعد تو پھر اُنہوں نے یہ کہا کہ جن لوگوں نے اِرتکابِ قتل کیا ہے وہی ماخوذ ہوسکتے ہیں، اُن میں محمد بن ابی بکر کا نام آتا ہے۔تو وہ تفتیش کے لیے پہنچے نائلہ کے پاس۔ نائلہ نو مسلم بیوی تھیں حضرتِ عثمان رضی اللہ عنہ کی۔ عیسائی تھیں پہلے پھر وہ مسلمان ہوئیں۔ تو اُن سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں یہ آئے تھے ۔کیا یہ مارنے والوںمیں تھے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ میں مارنے والوں میں نہیں ہوں ،حضرتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب میں نے گستاخی کی تو اُنہوں نے ایسے جملے کہے کہ مجھے شرم آئی تو میں لوٹ گیا اور میں نے اُن لوگوں کو اِشارہ بھی کیا ہے واپس جانے کا۔ تو میں تو چلاگیا، میرے جانے کے بعد شہادت ہوئی۔ تو اُنہوں (حضرت نائلہ) نے کہا کہ یہ ٹھیک بات کہی اِس نے  وَلٰکِنَّہ اَدْخَلَھُمَا  اُن دو آدمیوں کو جو اِس نے اندر پہنچایا تو اِسی نے پہنچایا، تیسرا یہ خود تھا، تو پھر اَب اُس کو ماردیا جائے۔ جب وہ صفائی دے رہی ہیں کہ یہ چلاگیا تھا تو قتل کا مرتکب وہ نہیں رہا اور اُنہوں نے آکر یہ حرکت کردی اِس طرح سے۔ باقی سارے کے سارے جو تھے اُنہوں نے سب نے طے کیا ہوا تھا کہ گھیرائو کرنا ہے اور استعفٰی لینا ہے، استعفٰی اُنہوں نے دیا نہیں۔ وہ بھی وجہ بتاتے تھے رسول اللہ  ۖ  نے مجھے یہ فرمایا تھا (کہ خلافت ملنے کے بعد دستبردار مت ہونا) تو اَب اِس سارے کے سارے گروہ سے نہیں بدلہ لیاجاسکتا۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف ٓغاز 3 1
5 حضرت علی کی برتری اور بالآخر باقیوں کا اُن کی طرف رجوع : 7 61
6 حضرت علی کا موقف : 8 4
7 حضرت علی کا موقف : 8 61
8 اصل قاتلین اُسی وقت مارے گئے تھے : 8 61
9 بہت اچھی تدبیر : 9 61
10 حضرت زبیر نے رجوع کرلیا : 9 61
11 وفات کے وقت حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت : 10 61
12 خارجی نے نماز کی حالت میں شہید کیا : 10 61
13 باغی قرآن کی تفسیر اپنی سمجھ سے کرتے تھے : 11 61
14 جَمَل کے بعد معرکہ صفین : 12 61
15 حضرت حسن کا دَورِ خلافت : 12 61
16 اپنے ساتھی کے مقابلہ میں حضرت معاویہ کی رائے بہتر تھی۔ جنگ اورمعاشی مسائل : 13 61
17 آخر میں حضرت معاویہ نے بھی وہی موقف اختیار کیا جو حضرت علی کا تھا : 13 61
18 موازنہ کیا جائے تو حضرت علی اور اُن کے ساتھی افضل ہیں : 13 61
19 اہل ِ بدر بھی حضرت علی کی طرف تھے : 14 61
20 حضرت علی کے فرامین ہمیشہ کے لیے باغیوں کے قوانین بن گئے : 14 61
21 ملفوظات شیخ الاسلام 15 1
22 مسائل ِعلمیہ : 15 21
23 محمود احمد عباسی کی تاریخی بد دیانتی 19 1
24 حضرت علی نے جواب دیا : 24 23
25 ابن خلدون لکھتے ہیں : 25 23
26 اور خود قاضی ابوبکر بن العربی یہ لکھتے ہیں : 27 23
27 بیعت ابن ِعمر رضی اللہ عنہما : 29 23
28 بقیہ : درس حدیث 34 3
29 صلاح ِخواتین 35 1
30 شوہر سے متعلق عورتوں کی کوتاہیاں 35 29
31 شوہر کی غلطی اور بے جا غصہ اور ناراضگی کے وقت عورت کو کیا کرنا چاہیے؟ 35 29
32 بدزبانی و زبان درازی کا مرض : 36 29
33 عورتوں کو ضروری تنبیہ : 37 29
34 شوہروں کو حقیر نہ سمجھو : 37 29
35 شوہر کی سفر سے واپسی کے وقت عورتوں کی کوتاہی : 38 29
36 شوہر کے مال میں تصرف : 38 29
37 درس ِ حدیثکریم پارک اور ڈیفنس 39 1
38 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
39 تحقیق اِس بات کی کہ جس عورت کے دُنیا میں کئی نکاح ہوئے وہ جنت میں کس خاوند کو ملے گی : 40 38
40 تنبیہ : 44 38
41 فائدہ : 44 38
42 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 44 1
43 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
45 تین قسم کے لوگ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دِن کلام نہیں فرمائیںگے : 45 43
46 تین چیزیں نجات دینے والی اور تین ہلاک کرنے والی ہیں : 46 43
47 نامۂ اعمال تین طرح کے ہیں : 47 43
48 اِجماع اُمت اور قیاس شرعی کے منکر غیر مقلدین (اہل حدیثوں) سے چند سوالات 49 1
49 یہودی خباثتیں 54 1
51 یہودیوں کی خونخواری : 54 49
52 دینی مسائل 58 1
53 ( کافروں کے نکاح کا بیان ) 58 52
55 بقیہ : اجماع ِاُمت اور قیاس ِشرعی کے منکر 59 48
56 لمی خبریں 60 1
57 پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے 60 56
58 ایسی آزادی پر ہزار بار لعنت 60 56
59 اخبار الجامعہ 61 1
60 انتقال پر ملال 62 1
61 درس حدیث 6 1
Flag Counter