Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007

اكستان

22 - 64
وَاسْتَخْلَفَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذِہِ السَّنَةِ عَلَی الْحَجِّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ اِنَّ مَقَامِیْ عَلٰی بَابِکَ اُحَاجِفُ عَنْکَ اَفْضَلُ مِنَ الْحَجِّ فَعَزَمَ عَلَیْہِ فَخَرَجَ بِالنَّاسِ اِلَی الْحَجِّ ۔ (البدایة ص ١٨٧ ج٧) 
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اِس سال حضرت عبد اللہ بن عباس کو اپنی نیابت میں اَمیر حج بنایا۔ حضرت ابن عباس نے عرض کیا کہ میرا آپ کے در پر مدافعت کرتے ہوئے ٹھہرے رہنا حج سے افضل ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بہت سخت تاکیدی حکم دیا تو وہ لوگوں کو لے کر حج کے لیے چلے گئے۔ 
جب وہ حج سے واپس آئے تو بیعت ہوچکی تھی۔ پھرحضرت علی سے دورانِ گفتگو جو باتیں ہوئیں اُن میں یہ بات تھی  : 
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اَطِعْنِیْ وَالْحَقْ بِمَالِکَ یَنْبُعٍ وَاغْلِقْ بَابَکَ عَلَیْکَ فَاِنَّ الْعَرَبَ تَجُوْلُ جَوْلَةً وَتَضْطَرِبُ وَلَا تَجِدُ غَیْرَکَ۔ (ابن خلدون ص ١٥٢ ج ٢) 
اُنہوں نے کہا میری بات مانیں اور اپنے مال پر ینبع چلے جائیں۔ اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ رہیں۔ عرب لوگ چکر کاٹیں گے ،بے چین رہیں گے اور آپ کے سوا اُنہیں کوئی نہ ملے گا۔ 
آپ غور کریں کہ بیعت ِخلافت کے بعد مدینہ شریف کو اِسی حال میں چھوڑجانے کا مشورہ کس قدر کمزور بات تھی۔ تمام عرب گردش میں آتے تو کیا مزید خون خرابہ نہ ہوتا۔ جو واقعات ابن عباس کی غیر موجودگی میں پیش آئے وہ حضرت علی نے دیکھے اور سمجھے تھے،نہ کہ حضرت ابن عباس نے     اور حضرت علی  محصور  جیسے تھے لیکن کہیں قریبی جگہ چلے گئے تھے۔ 
وَقَالَ اَبُوْھِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ، قُتِلَ عُثْمَانُ وَعَلِیّ غَائِب فِیْ اَرْضٍ لَّہ۔ فَلَمَّا بَلَغَہ قَالَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَمْ اَرْضَ وَلَمْ اَمَالِیء (البدایہ  ٧ / ١٩٣)
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف ٓغاز 3 1
5 حضرت علی کی برتری اور بالآخر باقیوں کا اُن کی طرف رجوع : 7 61
6 حضرت علی کا موقف : 8 4
7 حضرت علی کا موقف : 8 61
8 اصل قاتلین اُسی وقت مارے گئے تھے : 8 61
9 بہت اچھی تدبیر : 9 61
10 حضرت زبیر نے رجوع کرلیا : 9 61
11 وفات کے وقت حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت : 10 61
12 خارجی نے نماز کی حالت میں شہید کیا : 10 61
13 باغی قرآن کی تفسیر اپنی سمجھ سے کرتے تھے : 11 61
14 جَمَل کے بعد معرکہ صفین : 12 61
15 حضرت حسن کا دَورِ خلافت : 12 61
16 اپنے ساتھی کے مقابلہ میں حضرت معاویہ کی رائے بہتر تھی۔ جنگ اورمعاشی مسائل : 13 61
17 آخر میں حضرت معاویہ نے بھی وہی موقف اختیار کیا جو حضرت علی کا تھا : 13 61
18 موازنہ کیا جائے تو حضرت علی اور اُن کے ساتھی افضل ہیں : 13 61
19 اہل ِ بدر بھی حضرت علی کی طرف تھے : 14 61
20 حضرت علی کے فرامین ہمیشہ کے لیے باغیوں کے قوانین بن گئے : 14 61
21 ملفوظات شیخ الاسلام 15 1
22 مسائل ِعلمیہ : 15 21
23 محمود احمد عباسی کی تاریخی بد دیانتی 19 1
24 حضرت علی نے جواب دیا : 24 23
25 ابن خلدون لکھتے ہیں : 25 23
26 اور خود قاضی ابوبکر بن العربی یہ لکھتے ہیں : 27 23
27 بیعت ابن ِعمر رضی اللہ عنہما : 29 23
28 بقیہ : درس حدیث 34 3
29 صلاح ِخواتین 35 1
30 شوہر سے متعلق عورتوں کی کوتاہیاں 35 29
31 شوہر کی غلطی اور بے جا غصہ اور ناراضگی کے وقت عورت کو کیا کرنا چاہیے؟ 35 29
32 بدزبانی و زبان درازی کا مرض : 36 29
33 عورتوں کو ضروری تنبیہ : 37 29
34 شوہروں کو حقیر نہ سمجھو : 37 29
35 شوہر کی سفر سے واپسی کے وقت عورتوں کی کوتاہی : 38 29
36 شوہر کے مال میں تصرف : 38 29
37 درس ِ حدیثکریم پارک اور ڈیفنس 39 1
38 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
39 تحقیق اِس بات کی کہ جس عورت کے دُنیا میں کئی نکاح ہوئے وہ جنت میں کس خاوند کو ملے گی : 40 38
40 تنبیہ : 44 38
41 فائدہ : 44 38
42 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 44 1
43 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
45 تین قسم کے لوگ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دِن کلام نہیں فرمائیںگے : 45 43
46 تین چیزیں نجات دینے والی اور تین ہلاک کرنے والی ہیں : 46 43
47 نامۂ اعمال تین طرح کے ہیں : 47 43
48 اِجماع اُمت اور قیاس شرعی کے منکر غیر مقلدین (اہل حدیثوں) سے چند سوالات 49 1
49 یہودی خباثتیں 54 1
51 یہودیوں کی خونخواری : 54 49
52 دینی مسائل 58 1
53 ( کافروں کے نکاح کا بیان ) 58 52
55 بقیہ : اجماع ِاُمت اور قیاس ِشرعی کے منکر 59 48
56 لمی خبریں 60 1
57 پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے 60 56
58 ایسی آزادی پر ہزار بار لعنت 60 56
59 اخبار الجامعہ 61 1
60 انتقال پر ملال 62 1
61 درس حدیث 6 1
Flag Counter