ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
اكستان |
|
وَاسْتَخْلَفَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذِہِ السَّنَةِ عَلَی الْحَجِّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ اِنَّ مَقَامِیْ عَلٰی بَابِکَ اُحَاجِفُ عَنْکَ اَفْضَلُ مِنَ الْحَجِّ فَعَزَمَ عَلَیْہِ فَخَرَجَ بِالنَّاسِ اِلَی الْحَجِّ ۔ (البدایة ص ١٨٧ ج٧) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اِس سال حضرت عبد اللہ بن عباس کو اپنی نیابت میں اَمیر حج بنایا۔ حضرت ابن عباس نے عرض کیا کہ میرا آپ کے در پر مدافعت کرتے ہوئے ٹھہرے رہنا حج سے افضل ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بہت سخت تاکیدی حکم دیا تو وہ لوگوں کو لے کر حج کے لیے چلے گئے۔ جب وہ حج سے واپس آئے تو بیعت ہوچکی تھی۔ پھرحضرت علی سے دورانِ گفتگو جو باتیں ہوئیں اُن میں یہ بات تھی : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اَطِعْنِیْ وَالْحَقْ بِمَالِکَ یَنْبُعٍ وَاغْلِقْ بَابَکَ عَلَیْکَ فَاِنَّ الْعَرَبَ تَجُوْلُ جَوْلَةً وَتَضْطَرِبُ وَلَا تَجِدُ غَیْرَکَ۔ (ابن خلدون ص ١٥٢ ج ٢) اُنہوں نے کہا میری بات مانیں اور اپنے مال پر ینبع چلے جائیں۔ اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ رہیں۔ عرب لوگ چکر کاٹیں گے ،بے چین رہیں گے اور آپ کے سوا اُنہیں کوئی نہ ملے گا۔ آپ غور کریں کہ بیعت ِخلافت کے بعد مدینہ شریف کو اِسی حال میں چھوڑجانے کا مشورہ کس قدر کمزور بات تھی۔ تمام عرب گردش میں آتے تو کیا مزید خون خرابہ نہ ہوتا۔ جو واقعات ابن عباس کی غیر موجودگی میں پیش آئے وہ حضرت علی نے دیکھے اور سمجھے تھے،نہ کہ حضرت ابن عباس نے اور حضرت علی محصور جیسے تھے لیکن کہیں قریبی جگہ چلے گئے تھے۔ وَقَالَ اَبُوْھِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ، قُتِلَ عُثْمَانُ وَعَلِیّ غَائِب فِیْ اَرْضٍ لَّہ۔ فَلَمَّا بَلَغَہ قَالَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَمْ اَرْضَ وَلَمْ اَمَالِیء (البدایہ ٧ / ١٩٣)