ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
اكستان |
|
میں منقصت (کمی) لازم آتی ہو واجب الرد ہے۔ ہماری تحقیق کا مبنی یہی اُصول ہے۔ اُنہوں نے پیش نظر کتاب ''خلافت معاویہ ویزید'' کی ابتداء سبائی پارٹی اور حضرت علی کی بیعت کے عنوان سے کی ہے۔ اس میں انہوں نے طرح طرح کے فقروں سے ذہن سازی کی ہے مثلاً یہ کہ حضرت علی کو حضرت ابن عباس نے منع کیا کہ بلوائیوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں لیکن حضرت علی نے اُن کا مشورہ نہ مانا اور بیعت لے لی۔ سب سے پہلے بیعت کرنے والا'' اَشتر'' تھا ۔قاتلین سے قصاص نہیں لیا گیا تھا۔ اکابر صحابہ کی اکثریت نے جو مدینہ میں موجود تھی بیعت سے گریز کیا۔ حضرت علی کے زمانہ میں کوئی جہاد نہیں ہوا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ' پر مذکورہ بالا اعتراضات عباسی صاحب کی سب سے پہلے تصنیف ''خلافت معاویہ ویزید'' میں بالاختصار ہیں اور آخری تصنیف ''حقیقت ِخلافت و ملوکیت'' میں بالتفصیل ہیں۔ میں اُن کی پہلی تصنیف کے جوابات ہی سے اپنا مضمون شروع کررہا ہوں ،وہ لکھتے ہیں : ''سبائی لیڈر مالک الاشتر اور اُس کے ساتھی بلوائیوں نے جب حضرت علی سے بیعت خلافت کرنی چاہی تو اُن کے چچیرے بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس نے منع کیا اور کہا کہ گھر میں بیٹھ رہیں یا اپنی جاگیر'' ینبوع'' چلے جائیں۔ بلوائیوں سے کوئی واسطہ نہ رکھیں ورنہ خون عثمان کا الزام آپ پر لگ جائے گا۔ مگر افسوس حضرت موصوف نے اپنے بھائی کا مشورہ قبول نہ فرمایا اور بیعت لے لی۔'' (خلافت معاویہ ویزید ص ٥٢) عباسی صاحب کی اِس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت ناسمجھ تھے وہ باغیوں کے ساتھ گھلے ملے رہے ،یہ دونوں باتیں بے اَصل ہیں۔ عباسی صاحب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ مشورہ کہ ''حضرت علی کو ینبع چلے جانا چاہیے تھا'' اپنا مطلب حل کرنے کے لیے بے موقع استعمال کیا ہے۔ یا تو اُنہوں نے تاریخی کتابوں کا بغور مطالعہ نہیں کیا یا قصدًا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اِصابت ِ رائے سے بدگمان کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔ کیونکہ حضرت ابن عباس حضرت عثمان کی شہادت کے وقت مدینہ شریف میں موجود ہی نہیں تھے وہ حج کے لیے گئے ہوئے تھے۔ (مؤرخ ابن خلدون اور پھر'' بزعم خود محقق ''عباسی بے سوچے سمجھے اور بغیر حقائق دریافت کیے لکھتے چلے گئے ہیں)