ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
اكستان |
|
بن جریر نے جس طرح ایک طبقہ کی روایات لکھی ہیں اِسی طرح دُوسرے کی روایات لکھی ہیں۔ تاریخی ذخیرہ جمع کردیا ہے پڑھنے والا صحیح و غلط خود سمجھ لے گا۔ وہ تاریخ لکھتے وقت مؤرخ تھے۔ حدیث لکھتے وقت وہ جلیل القدر محدث تھے۔ تہذیب الاٰثار نادر المثیل کتاب ہے۔ وہ تفسیر لکھتے وقت عظیم مفسر تھے۔ تفسیر پر اُن کی بہت بڑی کتاب موجود ہے۔ اُس میں احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہے اور عباسی صاحب نے اپنی تصانیف میں طبری کی عبارتوں سے بہت جان ڈالی ہے، جابجا اُس کے حوالے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہنا چاہے کہ وہ خارجی تھے تو یہ بھی دُرست ہوسکتا ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ نہ وہ خارجی تھے نہ شیعہ، وہ تاریخ لکھتے وقت مؤرخ تھے۔ عباسی صاحب نے اہل باطل اور اہل اہواء کا طرزِ تحریر اختیار کیا ہے۔ ان کی کتاب ''خلافت معاویہ و یزید'' پہلی بار مئی ١٩٥٩ء میں طبع ہوئی۔ پھر انہوں نے ''تحقیقِ مزید'' لکھی۔ یہ کتاب جون ١٩٦١ء میں طبع ہوئی۔ یہ کتابیں اعتدال سے ہٹی ہوئی ہیں اِن میں جابجا ''تحقیق ''کے نام سے'' تحریف ''کی گئی ہے۔ چھیڑ چھاڑ اور مسلک اہل سنت سے اِنحراف ہوا۔ اُدھر ۔۔۔١٩ ء میں مودودی صاحب کی کتاب ''خلافت و ملوکیت'' کے نام سے شائع ہوئی۔ وہ بھی اِسی طرح اعتدال سے ہٹی ہوئی ہے۔ اس کا جواب عباسی صاحب نے حقیقت خلافت و ملوکیت کے نام سے لکھا۔ یہ کتاب ١٩٦٦ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ مودودی صاحب کی کتاب کے جوابات تو فورًا ہی لکھے گئے مگر عباسی صاحب کی تصانیف کا رُخ ردِّشیعیت لیے ہوئے تھا اِس لیے اُس کا جواب کسی نے نہیں لکھا۔ اُن کی بزعم خود تحقیقات پر تنقید بہت ہی کم کی گئی۔ اِسی بات نے نقصان پہنچایا اور اُن کے خیالات بلاتعرض سادہ لوح حضرات اپنانے لگے اور ایک نیا فتنہ یزیدیت اُبھرنے لگا۔ خارجیت نمودار ہونے لگی اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اُن کی غلط باتوں کو سامنے لایا جائے۔ ہمارا طرزِ تحقیق قرآن و سنت اور اُصول اسلام پر مبنی ہے ایسی باتیں جو اِن حضرات سے بدگمانی پیدا کریں ہمارے نزدیک غلط ہیں کیونکہ قرآن و سنت میں صحابہ کرام کے ایمان و عمل کی تعریف فرمائی گئی ہے وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِیْ قُلُوْبِکُمْ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دی اور ایمان تمہارے دلوں میں جڑدیا (جمادیا) ہے وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ اور تمہارے دلوں میں کفر فسق اور معصیت سے کراہت ڈال دی ہے۔ اس لیے ہر وہ قصّہ جس سے اِن کی شان