Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2006

¾اكستان Ù

51 - 64
فرمایا۔ کاش کہ غیر مقلدین کو حدیث اور سنت کا فرق معلوم ہوتا تو وہ ہرجگہ اتباع ِحدیث کا شور نہ مچاتے۔ ہر باب میں بہت سی احادیث ہوتی ہیں۔ اُن میں سے سنت کا تلاش کرنا ہر آدمی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ ہمارے ائمہ کرام نے ہر باب کی تمام احادیث میں سے سنت کا تعین کردیا ہے، اللہ انہیں جزائے خیردے۔ اب ہمیں صرف اپنے امام کی بات مان کر اُس سنت پر عمل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر نماز میں ہاتھ کہاں رکھے جائیں اِس سلسلہ میں چار قسم کی احادیث ہیں : (١) ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا (٢) ناف کے اُوپر باندھنا (٣) سینہ پر ہاتھ باندھنا (٤) ہاتھوں کو نہ باندھنا بلکہ چھوڑدینا۔ اگر ایک غیر مقلد صرف سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث پر عمل کرے گا تو باقی تین قسم کی احادیث کا منکر بن جائے گا اور اہل حدیث نہ رہے گا۔ ہمارے امام صاحب  کو بھی اِن چار قسم کی احادیث کا علم تھا۔ اُنہوں نے ان میں سے سنت تلاش کرکے ہمارے لیے آسانی پیدا کردی۔ آپ چونکہ تابعی ہیں اس لیے صحابہ کرام کو نماز پڑھتے دیکھا تھا اس لیے آپ نے حضرت علی  کی اس روایت کو سنت قراردیا  ''قال علی السنة وضع الکف علی الکف فی الصلوة تحت السرة'' (رواہ ابودا و د)۔ یعنی حضرت علی نے فرمایا نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔ اگر حضرت علی یہاں سنت کا لفظ استعمال نہ فرماتے تو پھر بھی یہ سنت ہوتی کیونکہ حضور اکرم  ۖ  نے فرمایا ہے ''عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَائِ الرَّاِشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ'' (مشکٰوة شریف ص ٢٩، ٣٠)۔ یعنی میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑلو۔ لیکن یہاں پر حضرت علی نے سنت کا لفظ استعمال فرماکر ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو پختہ سنت قرار دے دیا۔ تو معلوم ہوا کہ جوناگڑھی صاحب کو حدیث اور سنت کا فرق ہی معلوم نہیں اس لیے حدیث کے لفظ پر زور دیتے رہتے ہیں حالانکہ ہر باب کی تمام احادیث پر عمل کرنا کسی اہل حدیث کے بس کا روگ بھی نہیں۔ عمل صرف اور صرف سنت پر ہوسکتا ہے جو احادیث میں سے تلاش کرنا پڑتی ہے۔ مولانا موصوف اپنی کتاب ''شمع محمدی'' میں یوں تحریر فرماتے ہیں  :  
''روایت میں جو لوگ اعلیٰ پایہ کے صادق، امین، راست باز اور دُرست گو ہیں لازم نہیں کہ اُن کی فہم و فراست، ادراک و درایت بھی ہرجگہ مثل روایت صحیح، اٹل، ناقابل انکار اور واجب التسلیم ہو۔ مثال کے طور پر لیجیے کون ہے جو نہیں مانتا کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب جو روایت آنحضرت  ۖ  سے بیان کریں، جو حدیث رسول اللہ  ۖ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 امام کو نماز لمبی نہیں پڑھانی چاہیے : 5 3
5 نبی علیہ السلام کی خدمت میں شکایت : 6 3
6 نبی علیہ السلام کی جانب سے اصلاح : 6 3
7 علم میں انتہائی ترقی : 6 3
8 جج کا عہدہ طلب کرنے والے کو یہ عہدہ نہیں دیا جائے گا : 7 3
9 خطرہ بھی ثواب بھی : 7 3
10 رنجیت سنگھی نہیں چلے گی : 7 3
11 مقروض تھے اِس لیے بھی قاضی اور مُحَصِّلْبنادیا : 8 3
12 جج کے لیے اہم ہدایت : 8 3
13 اسلامی ہدایات کی بدولت غیر مسلم پوری دُنیا میں محفوظ ہیں : 8 3
14 غیر مسلموں میں برداشت نہیں ہوتی : 9 3
15 کافر پر بھی ظلم کی اجازت نہیں ہے : 9 3
16 ایک اہم عدالتی اُصول : 9 3
17 فیصلے کس ترتیب سے کیے جائیں : 9 3
18 جج کے تحفے یا سرکاری ہدایا : 10 3
19 حضرت عمر کی فراست : 10 3
20 حضرت معاذ کا خواب اور خوف ِخدا : 10 3
21 تقریب ختم ِبخاری شریف 11 1
22 معتزلہ پر رَد : 11 21
23 ''اَعراض'' کا مطلب : 11 21
24 سلامی احکامات وَرائے عقل ہوسکتے ہیں خلاف ِ عقل نہیں ہو سکتے : 12 21
25 مثال سے وضاحت : 12 21
26 اعمال کا وزن بدیہی چیز ہے نیز مثال سے وضاحت : 13 21
27 ابوجہل عقل پرست اور ابوبکر عقل شناس تھے : 14 21
28 ترازو کئی طرح کے ہوتے ہیں : 15 21
29 اعراض اجسام میں تبدیل ہو جائیں گے : 16 21
30 مزید مثالیں 16 21
31 بعض الفاظ کی تشریح : 17 21
32 امام بخاری .... سند اور تقلید : 17 21
33 تقلید نہ ہوتی تو دین اپنی اصل شکل میں باقی نہ رہتا : 18 21
34 ہر راوی بِلا دلیل طلب کیے تقلید کر رہا ہے : 19 21
35 تقلید فطرت کا حصہ ہے ،آج کے غیر مقلد بھی تقلید ہی کرتے ہیں : 19 21
36 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 20 1
37 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 20 36
38 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ِخلافت کے بعد : 20 36
40 خلیفہ کا مشیر کی رائے دُرست قرار دینا : 25 3
41 رمضان المبارک کے عشرہ ٔاخیرہ کے احکام 27 1
42 رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت کا خاص اہتمام کیا جائے : 27 41
43 شب ِ قدر کی فضیلت : 28 41
44 شب قدر کی دُعا : 29 41
45 شب قدر کی تاریخیں : 30 41
46 شب قدر کی تعیین نہ کرنے میں مصالح : 30 41
47 رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف : 31 41
48 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 41 1
49 بسلسلہ اصلاح خواتین 43 1
50 عورتوں کے عیوب اور اَمراض 43 49
51 حرص اور بے صبری کا مادہ کیسے پیدا ہو جاتا ہے ؟ : 43 49
52 ایک واقعہ : 43 49
53 دُنیا کے معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو : 44 49
54 بزرگ کا اِرشاد 45 49
55 رمضان کے بعد دو اہم کام : 45 41
56 نبوی لیل ونہار 46 1
57 (١) نشست : 46 56
58 (٢) بکریوں کی تعداد : 46 56
59 (٣) مسجد میں اعلان : 46 56
60 (٤) آنحضرت ۖ کا ہنسنا : 46 56
61 (٦) غم کے وقت کیفیت : 47 56
62 (٧) خوشی کے وقت کیفیت : 47 56
63 (٨) صدقہ کے مال کی اہمیت : 47 56
64 (٩)آنحضرت ۖ کی خانگی مشغولیتیں : 47 56
65 گلدستہ ٔ احادیث 48 1
66 تین قسم کے لوگ جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام نہیں فرمائیں گے : 48 65
67 تین قسم کے لوگ جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے نہ کوئی نیکی اُوپر جاتی ہے : 48 65
68 تین چیزیں جو ہنسی مذاق میں بھی واقع ہوجاتی ہیں : 49 65
69 ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے مقلدین کے بارے میں غیر مقلدین ( نام نہاد اہل ِ حدیثوں)کا نقطہ نظر 50 1
70 دُعائیں اور تمنائیں 54 1
71 چچا بزرگوار کا خط احقر کے نام 54 70
72 رُودادِ سفر لاہور تا اٹک 56 1
73 بیان تبلیغی مرکز مدینہ مسجد لکی مروت 59 72
74 دینی مسائل 61 1
75 کفو یعنی میل اور جوڑ ہونے کا بیان : 61 74
76 وفیات 63 1
Flag Counter