ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
فرمایا۔ کاش کہ غیر مقلدین کو حدیث اور سنت کا فرق معلوم ہوتا تو وہ ہرجگہ اتباع ِحدیث کا شور نہ مچاتے۔ ہر باب میں بہت سی احادیث ہوتی ہیں۔ اُن میں سے سنت کا تلاش کرنا ہر آدمی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ ہمارے ائمہ کرام نے ہر باب کی تمام احادیث میں سے سنت کا تعین کردیا ہے، اللہ انہیں جزائے خیردے۔ اب ہمیں صرف اپنے امام کی بات مان کر اُس سنت پر عمل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر نماز میں ہاتھ کہاں رکھے جائیں اِس سلسلہ میں چار قسم کی احادیث ہیں : (١) ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا (٢) ناف کے اُوپر باندھنا (٣) سینہ پر ہاتھ باندھنا (٤) ہاتھوں کو نہ باندھنا بلکہ چھوڑدینا۔ اگر ایک غیر مقلد صرف سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث پر عمل کرے گا تو باقی تین قسم کی احادیث کا منکر بن جائے گا اور اہل حدیث نہ رہے گا۔ ہمارے امام صاحب کو بھی اِن چار قسم کی احادیث کا علم تھا۔ اُنہوں نے ان میں سے سنت تلاش کرکے ہمارے لیے آسانی پیدا کردی۔ آپ چونکہ تابعی ہیں اس لیے صحابہ کرام کو نماز پڑھتے دیکھا تھا اس لیے آپ نے حضرت علی کی اس روایت کو سنت قراردیا ''قال علی السنة وضع الکف علی الکف فی الصلوة تحت السرة'' (رواہ ابودا و د)۔ یعنی حضرت علی نے فرمایا نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔ اگر حضرت علی یہاں سنت کا لفظ استعمال نہ فرماتے تو پھر بھی یہ سنت ہوتی کیونکہ حضور اکرم ۖ نے فرمایا ہے ''عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَائِ الرَّاِشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ'' (مشکٰوة شریف ص ٢٩، ٣٠)۔ یعنی میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑلو۔ لیکن یہاں پر حضرت علی نے سنت کا لفظ استعمال فرماکر ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو پختہ سنت قرار دے دیا۔ تو معلوم ہوا کہ جوناگڑھی صاحب کو حدیث اور سنت کا فرق ہی معلوم نہیں اس لیے حدیث کے لفظ پر زور دیتے رہتے ہیں حالانکہ ہر باب کی تمام احادیث پر عمل کرنا کسی اہل حدیث کے بس کا روگ بھی نہیں۔ عمل صرف اور صرف سنت پر ہوسکتا ہے جو احادیث میں سے تلاش کرنا پڑتی ہے۔ مولانا موصوف اپنی کتاب ''شمع محمدی'' میں یوں تحریر فرماتے ہیں : ''روایت میں جو لوگ اعلیٰ پایہ کے صادق، امین، راست باز اور دُرست گو ہیں لازم نہیں کہ اُن کی فہم و فراست، ادراک و درایت بھی ہرجگہ مثل روایت صحیح، اٹل، ناقابل انکار اور واجب التسلیم ہو۔ مثال کے طور پر لیجیے کون ہے جو نہیں مانتا کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب جو روایت آنحضرت ۖ سے بیان کریں، جو حدیث رسول اللہ ۖ