Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2006

¾اكستان Ù

14 - 64
ت بھی سمجھ میں نہیں آسکی آسان سی۔ کیونکہ وزن جو ہے اَعراض کا آج کی تحقیقات دیکھی جائیں اُن سے تو سمجھ میں آہی رہا ہے ورنہ تو جب سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اُس وقت سے دُنیا میں انسان اعراض کا وزن کررہا ہے۔ کیا آپ جب ہاتھ ڈالتے ہیں پانی میں تو پتا چلاتے ہیں کہ یہ زیادہ ٹھنڈا ہے یہ کم ٹھنڈا ہے پتا چلتا ہے یا نہیں چلتا، تو یہ عرض کا وزن ہوگیا۔ آپ جب دھوپ میں باہر نکلتے ہیں تو آپ سائے کی طرف جاتے ہیں اور درخت کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں حالانکہ درخت کے نیچے بھی گرمی ہے اور بغیر درخت کے بھی گرمی ہے، لیکن آپ نے یہ پتا چلالیا کہ وہ گرمی زیادہ ہے یہ گرمی کم ہے اس لیے درخت کے نیچے کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے ہیں، یہ وزن ہوگیا۔ حرارت عرض ہے، برودت عرض ہے، اس کا وزن ہوگیا تو وزن تو اس دُنیا میں انسان کررہا ہے اور جب سے پیدا ہوا کررہا ہے، لیکن عقل پر پردہ آگیا، اتنی بدیہی بات بھی انہیں سمجھ میں نہیں آئی اور اس کا انکار کردیا۔جب قرآنِ پاک کی آیات اور احادیث آئیں تو ان کے مطلب بیان کرنے کے لیے انہوں نے تاویلات شروع کیں حالانکہ تاویل کی ضرورت نہیں ہے، یہ اپنے ظاہری معنی پر ہی قائم ہیں، اُن کے ظاہری معنی جو ہیں و ہی صحیح ہیں۔ 
	امام بخاری رحمة اللہ علیہ اِس مناسبت سے یہ حدیث لائے اخیر میں اور اس کے ساتھ ساتھ معتزلہ پر رد بھی کردیا۔ معتزلہ کا مطلب ''عقل پرست'' یعنی جو اپنی عقل کو معیار ٹھہرائیں ہرچیز کا صحیح اور غلط کے لیے۔ یہ خود بیوقوف ہیں، نادان ہیں، عقل نہیں پرکھ سکتے۔ آپ دیکھیے کہ جب حضرت نبی علیہ الصلوٰة والسلام تشریف لائے اور آپ کو معراج ہوئی، معراج رُوحانی بھی ہوئی، منامی بھی ہوئی اور جسمانی بھی ہوئی۔ تو آپ ایک رات آسمانوں پر تشریف لے گئے اپنے جسم ِ اقدس کے ساتھ، اور آسمان کی اور جنت کی اور دوزخ کی اور اُس سے اعلیٰ، اللہ جانتا ہے کہاں کہاں کی سیر کرکر آپ واپس تشریف لے آئے اُسی رات۔ جب آپ تشریف لائے تو آپ نے آکر صحابہ   کو بتلایا، لوگوں کو بتلایا کہ آج رات ایسے میں گیا اور واپس بھی آگیا اور یہ یہ چیزیں دیکھ کر آیا۔
ابوجہل عقل پرست  اور  ابوبکر   عقل شناس تھے  :
	 ابوجہل بھی ملا آپ نے اُس کو بھی بتایا، وہ عقل پرست تھا۔ وَرائے عقل کو خلافِ عقل سمجھتا تھا بیوقوف تھا۔ اب اُس کو آپ نے بتلایا ، وہ تھا تو شاطر چالاک۔ اُس نے کہا میں زیادہ سے زیادہ یہاں شور مچادوں گا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 امام کو نماز لمبی نہیں پڑھانی چاہیے : 5 3
5 نبی علیہ السلام کی خدمت میں شکایت : 6 3
6 نبی علیہ السلام کی جانب سے اصلاح : 6 3
7 علم میں انتہائی ترقی : 6 3
8 جج کا عہدہ طلب کرنے والے کو یہ عہدہ نہیں دیا جائے گا : 7 3
9 خطرہ بھی ثواب بھی : 7 3
10 رنجیت سنگھی نہیں چلے گی : 7 3
11 مقروض تھے اِس لیے بھی قاضی اور مُحَصِّلْبنادیا : 8 3
12 جج کے لیے اہم ہدایت : 8 3
13 اسلامی ہدایات کی بدولت غیر مسلم پوری دُنیا میں محفوظ ہیں : 8 3
14 غیر مسلموں میں برداشت نہیں ہوتی : 9 3
15 کافر پر بھی ظلم کی اجازت نہیں ہے : 9 3
16 ایک اہم عدالتی اُصول : 9 3
17 فیصلے کس ترتیب سے کیے جائیں : 9 3
18 جج کے تحفے یا سرکاری ہدایا : 10 3
19 حضرت عمر کی فراست : 10 3
20 حضرت معاذ کا خواب اور خوف ِخدا : 10 3
21 تقریب ختم ِبخاری شریف 11 1
22 معتزلہ پر رَد : 11 21
23 ''اَعراض'' کا مطلب : 11 21
24 سلامی احکامات وَرائے عقل ہوسکتے ہیں خلاف ِ عقل نہیں ہو سکتے : 12 21
25 مثال سے وضاحت : 12 21
26 اعمال کا وزن بدیہی چیز ہے نیز مثال سے وضاحت : 13 21
27 ابوجہل عقل پرست اور ابوبکر عقل شناس تھے : 14 21
28 ترازو کئی طرح کے ہوتے ہیں : 15 21
29 اعراض اجسام میں تبدیل ہو جائیں گے : 16 21
30 مزید مثالیں 16 21
31 بعض الفاظ کی تشریح : 17 21
32 امام بخاری .... سند اور تقلید : 17 21
33 تقلید نہ ہوتی تو دین اپنی اصل شکل میں باقی نہ رہتا : 18 21
34 ہر راوی بِلا دلیل طلب کیے تقلید کر رہا ہے : 19 21
35 تقلید فطرت کا حصہ ہے ،آج کے غیر مقلد بھی تقلید ہی کرتے ہیں : 19 21
36 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 20 1
37 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 20 36
38 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ِخلافت کے بعد : 20 36
40 خلیفہ کا مشیر کی رائے دُرست قرار دینا : 25 3
41 رمضان المبارک کے عشرہ ٔاخیرہ کے احکام 27 1
42 رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت کا خاص اہتمام کیا جائے : 27 41
43 شب ِ قدر کی فضیلت : 28 41
44 شب قدر کی دُعا : 29 41
45 شب قدر کی تاریخیں : 30 41
46 شب قدر کی تعیین نہ کرنے میں مصالح : 30 41
47 رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف : 31 41
48 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 41 1
49 بسلسلہ اصلاح خواتین 43 1
50 عورتوں کے عیوب اور اَمراض 43 49
51 حرص اور بے صبری کا مادہ کیسے پیدا ہو جاتا ہے ؟ : 43 49
52 ایک واقعہ : 43 49
53 دُنیا کے معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو : 44 49
54 بزرگ کا اِرشاد 45 49
55 رمضان کے بعد دو اہم کام : 45 41
56 نبوی لیل ونہار 46 1
57 (١) نشست : 46 56
58 (٢) بکریوں کی تعداد : 46 56
59 (٣) مسجد میں اعلان : 46 56
60 (٤) آنحضرت ۖ کا ہنسنا : 46 56
61 (٦) غم کے وقت کیفیت : 47 56
62 (٧) خوشی کے وقت کیفیت : 47 56
63 (٨) صدقہ کے مال کی اہمیت : 47 56
64 (٩)آنحضرت ۖ کی خانگی مشغولیتیں : 47 56
65 گلدستہ ٔ احادیث 48 1
66 تین قسم کے لوگ جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام نہیں فرمائیں گے : 48 65
67 تین قسم کے لوگ جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے نہ کوئی نیکی اُوپر جاتی ہے : 48 65
68 تین چیزیں جو ہنسی مذاق میں بھی واقع ہوجاتی ہیں : 49 65
69 ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے مقلدین کے بارے میں غیر مقلدین ( نام نہاد اہل ِ حدیثوں)کا نقطہ نظر 50 1
70 دُعائیں اور تمنائیں 54 1
71 چچا بزرگوار کا خط احقر کے نام 54 70
72 رُودادِ سفر لاہور تا اٹک 56 1
73 بیان تبلیغی مرکز مدینہ مسجد لکی مروت 59 72
74 دینی مسائل 61 1
75 کفو یعنی میل اور جوڑ ہونے کا بیان : 61 74
76 وفیات 63 1
Flag Counter