ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
ت بھی سمجھ میں نہیں آسکی آسان سی۔ کیونکہ وزن جو ہے اَعراض کا آج کی تحقیقات دیکھی جائیں اُن سے تو سمجھ میں آہی رہا ہے ورنہ تو جب سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اُس وقت سے دُنیا میں انسان اعراض کا وزن کررہا ہے۔ کیا آپ جب ہاتھ ڈالتے ہیں پانی میں تو پتا چلاتے ہیں کہ یہ زیادہ ٹھنڈا ہے یہ کم ٹھنڈا ہے پتا چلتا ہے یا نہیں چلتا، تو یہ عرض کا وزن ہوگیا۔ آپ جب دھوپ میں باہر نکلتے ہیں تو آپ سائے کی طرف جاتے ہیں اور درخت کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں حالانکہ درخت کے نیچے بھی گرمی ہے اور بغیر درخت کے بھی گرمی ہے، لیکن آپ نے یہ پتا چلالیا کہ وہ گرمی زیادہ ہے یہ گرمی کم ہے اس لیے درخت کے نیچے کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے ہیں، یہ وزن ہوگیا۔ حرارت عرض ہے، برودت عرض ہے، اس کا وزن ہوگیا تو وزن تو اس دُنیا میں انسان کررہا ہے اور جب سے پیدا ہوا کررہا ہے، لیکن عقل پر پردہ آگیا، اتنی بدیہی بات بھی انہیں سمجھ میں نہیں آئی اور اس کا انکار کردیا۔جب قرآنِ پاک کی آیات اور احادیث آئیں تو ان کے مطلب بیان کرنے کے لیے انہوں نے تاویلات شروع کیں حالانکہ تاویل کی ضرورت نہیں ہے، یہ اپنے ظاہری معنی پر ہی قائم ہیں، اُن کے ظاہری معنی جو ہیں و ہی صحیح ہیں۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ اِس مناسبت سے یہ حدیث لائے اخیر میں اور اس کے ساتھ ساتھ معتزلہ پر رد بھی کردیا۔ معتزلہ کا مطلب ''عقل پرست'' یعنی جو اپنی عقل کو معیار ٹھہرائیں ہرچیز کا صحیح اور غلط کے لیے۔ یہ خود بیوقوف ہیں، نادان ہیں، عقل نہیں پرکھ سکتے۔ آپ دیکھیے کہ جب حضرت نبی علیہ الصلوٰة والسلام تشریف لائے اور آپ کو معراج ہوئی، معراج رُوحانی بھی ہوئی، منامی بھی ہوئی اور جسمانی بھی ہوئی۔ تو آپ ایک رات آسمانوں پر تشریف لے گئے اپنے جسم ِ اقدس کے ساتھ، اور آسمان کی اور جنت کی اور دوزخ کی اور اُس سے اعلیٰ، اللہ جانتا ہے کہاں کہاں کی سیر کرکر آپ واپس تشریف لے آئے اُسی رات۔ جب آپ تشریف لائے تو آپ نے آکر صحابہ کو بتلایا، لوگوں کو بتلایا کہ آج رات ایسے میں گیا اور واپس بھی آگیا اور یہ یہ چیزیں دیکھ کر آیا۔ ابوجہل عقل پرست اور ابوبکر عقل شناس تھے : ابوجہل بھی ملا آپ نے اُس کو بھی بتایا، وہ عقل پرست تھا۔ وَرائے عقل کو خلافِ عقل سمجھتا تھا بیوقوف تھا۔ اب اُس کو آپ نے بتلایا ، وہ تھا تو شاطر چالاک۔ اُس نے کہا میں زیادہ سے زیادہ یہاں شور مچادوں گا