ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
گلدستہ ٔ احادیث ( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب، مدرس جامعہ مدنیہ لاہور ) تین قسم کے لوگ جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام نہیں فرمائیں گے : عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : '' ثَلٰثَة لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَلَایَنْظُرُ اِلَیْھِمْ وَلَایُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَاب اَلِیْم۔ قَالَ اَبُوْذَرٍّ خَابُوْا وَخَسِرُوْا مَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ اَلْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَہ بِالْحَلْفِ الْکَاذِبِ'' (مسلم بحوالہ مشکٰوة ص ٢٤٣) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو اُن سے (مہربانی و عنایت سے)کلام کریں گے، نہ (بنظرِ رحمت) اُن کی طرف دیکھیں گے اور نہ اُن کو (گناہوں سے) پاک کریں گے اور اُن تینوں کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ حضرت ابوذر نے عرض کیا کہ یہ لوگ خائب و خاسر ہوں، یہ کون لوگ ہیں اے اللہ کے رسول (ۖ) ؟ فرمایا : (ایک) ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا، (دوسرا) احسان جتلانے والا ،(تیسرا) جھوٹی قسمیں کھاکر اپنی تجارت بڑھانے والا۔ تین قسم کے لوگ جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے نہ کوئی نیکی اُوپر جاتی ہے : عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''ثَلٰثَة لَّایُقْبَلُ لَھُمْ صَلٰوة وَّلاتَصْعَدُ لَھُمْ حَسَنَة اَلْعَبْدُ الْاٰبِقُ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی مَوَالِیْہِ فَیَضَعُ یَدَہ فِیْ اَیْدِیْھِمْ وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَیْھَا زَوْجُھَا وَالسَّکْرَانُ حَتّٰی یَصْحُوَ'' (شعب الایمان بیہقی بحوالہ مشکٰوة ص ٢٨٣) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی نیکی اُوپر جاتی ہے۔ ایک تو بھاگا ہوا غلام جب تک