ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2003 |
اكستان |
|
حاصل مطالعه (حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ، فاضل جامعہ مدنیہ ) دِلا غافل نہ ہو یک دم : مندرجہ بالا عنوان پنجاب کے ایک باخدا عالم مولانا غلام رسول صاحب کے کلام کا ایک مصرع ہے، اس کلام میں مولانا نے فکر ِآخرت سے متعلق بڑے درد بھرے اشعار کہے ہیں۔یہ اشعار ہم اپنے بچپن میںاستاذ محترم کو گنگناتے سُنتے تھے تو قلب پر عجیب اثر ہوتا تھا ۔بچپن میں ہی یہ مصرع ہمارے دل و دماغ میں پیوست ہو گیاتھا ۔ ع دِ لا غافل نہ ہو یک دم یہ دنیا چھوڑجانا ہے کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ وقتِ سحر ایک مسجد سے یہ اشعار پڑھنے کی آواز آتی تھی دل بے چین ہو جاتاتھا اب وہ آواز نہیں آتی معلوم نہیں پڑھنے والے نہیں رہے یا کوئی اوربات ہے۔ جی چاہتا ہے قارئین بھی اس کلام سے مستفید ہوں شاید کسی کے دل میں فکر آخرت کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ملاحظہ فرمائیے مولانا فرماتے ہیں ۔ مولانا فرماتے ہیں ۔ دِلا غافل نہ ہو یک دم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے تِرا نازک بدن بھائی جو لیٹے سیج پھولوں پر یہ ہوگا ایک دن مُردار جو کِرموں نے کھانا ہے اَجَلْ کے روز کو کر یاد ، کر سامان چلنے کا مُسافر بے وطن ہے تو ، کہاں تیرا ٹھکانا ہے غلط فہمید ہے تیری نہیں آرام اِک پل بھی زمیں کے فرش پر سونا جو اینٹوں کا سرہانا ہے