ہم جنس پرستی کی تباہ کاریاں اور ان کا علاج |
ہم نوٹ : |
|
آفریں بر دست و بر بازوئے تو اے اللہ! آپ کے دستِ جذب پر صد آفرین ہو اور آپ کی شانِ اجتبا پر: اَللہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ 16؎پس اللہ تعالی مست کرتا ہے، ورنہ اختر کیا جانتا ہے ؎ میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں محبت دے کے تڑپایا گیا ہوں سمجھتا لاکھ اسرارِ محبت نہیں سمجھا میں سمجھایا گیا ہوں میں بنگلہ دیش آیا نہیں، لایا گیا ہوں۔ یہ سب غیبی طور پر اسباب ہوتے ہیں۔ تو مومن نفس و شیطان کے گندے کاموں میں، کیچڑ میں اپنی روح کو کیوں پھنساتا ہے؟ اس کو چاہیے کہ اللہ کے دریائے قرب کی گہرائیوں میں غوطہ مارے، ورنہ روح بے قیمت ہوجائے گی، جیسے روہو مچھلی کی شان یہ ہے کہ دریا کے دھارے کے خلاف تیرتی ہے، لہٰذا نفس کی حرام خواہشات کے دھاروں کے خلاف تیرو، نفس کو مٹانا سیکھو، پھر اللہ کو پانا سیکھوگے۔ اللہ کو پانے کا اور نفس کو مٹانے کا شوق نہ ہو تو ایسا شخص دعوائے محبت میں نہایت کاذِب اور راہِ محبت کا مخنث ہے۔ نفس پر مردانہ وار حملہ کرنا چاہیے مولانا رومی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ اے مخنث نے تو مرد نے تو زن اے مخنث! نہ تو مرد ہے، نہ عورت ؎ ہیں تبر بردار مردانہ بزن ارے! تبر اٹھا اور نفس پر مردانہ وار حملہ کر، کیوں کہ نفس اپنی خاصیت کے اعتبار سے _____________________________________________ 16؎الشورٰی:13