ہم جنس پرستی کی تباہ کاریاں اور ان کا علاج |
ہم نوٹ : |
|
اللہ والے نہ بن سکیں، کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ یہ تو میرے ہاتھ سے نکلنے والے ہیں، اللہ کے ولی بننے والے ہیں اور ان پر زیادہ محنت اس لیے کرتا ہے کہ اگر یہ ولی ہوجائیں گے، عابد ہوجائیں گے تو یہ لاکھوں کو ولی اللہ بنائیں گے، لہٰذا ان کے اخلاق کو برباد کرتا ہے تاکہ ان کی خوب بدنامی ہو اور انہیں عشقِ اَمارد میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حسین لڑکوں سے بدنظری کرنے کے مرض میں مبتلا کر کے ان کا راستہ مارتا ہے، یہاں تک کہ بد فعلی کرا کے دنیا و آخرت میں رسوا کر دیتا ہے۔ لہٰذا اس کا علاج یہی ہے کہ کسی اللہ والے سے اصلاحی تعلق قائم کرو اور میری کتاب ’’روح کی بیماریاں اور ان کا علاج‘‘ کا مطالعہ کرو اور ان لڑکوں سے دور رہوجن کو دیکھنے سے نفس ذرّہ برابر بھی حرام مزہ لینے لگے، اور ان سے جسمانی خدمت نہ لی جائے، سب سے بڑا فتنہ اسی جسمانی خدمت سے ہوتا ہے، خصوصاً گھٹنوں سے اوپر پیر دبوانے سے۔ لہٰذا مہتمم اور اساتذہ کو لڑکوں سے ہر گز خدمت نہ لینی چاہیے۔ بڑے لڑکوں اور چھوٹے لڑکوں کا میل جول زہرِ قاتل ہے دوسری انتہائی اہم بات یہ ہے کہ بڑے لڑکے چھوٹے لڑکوں کے ساتھ نہ رہیں ورنہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ پہلے میلان، پھر عشق بازی اور آخر میں شیطان بدفعلی کرا دیتا ہے، اور سالکین جو اللہ اللہ کر رہے ہیں ان کےلیے تو میں خاص طور پر کہتا ہوں کہ اَمرد لڑکوں کے ساتھ میل جول رکھنا زہرِ قاتل ہے، یہ عمل خدا سے محروم کردیتا ہے اور صرف محروم ہی نہیں کرتا بلکہ گندا کام کرا کے مبغوض بھی کر دیتا ہے۔ سب سے سخت عذاب بد فعلی کی مرتکب قوم پر آیا حدیث میں آتا ہے کہ جب لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کا گناہ ہوتا ہے تو فرشتے ڈر کے مارے آسمان پر چلے جاتے ہیں، کیوں کہ وہ یہ عمل کرنے والوں پر عذاب کو نازل ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں کہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت لوط علیہ السلام کی بدفعلی کرنے والی قوم کو اوپر پہلے آسمان تک لے گئے۔ علامہ ابنِ قیم جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت