ہم جنس پرستی کی تباہ کاریاں اور ان کا علاج |
ہم نوٹ : |
|
بٹھاتے تھے۔ آج کل لوگ پہلوان بنتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے نفس پر بھروسہ ہے اور بعض ڈرتے ہیں کہ صاحب! میں احتیاط کروں گا تو لوگ مجھے حقیر سمجھیں گے۔ ارے، اپنی آبرو کو اللہ کے نام پر قربان کردو۔ دیکھ لو، کیا آج امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی ذلت سے تذکرہ کرتا ہے کہ وہ امام محمد رحمۃاللہ علیہ کو اپنے پیچھے بٹھایا کرتے تھے، معلوم ہوتا ہے عشق بازی کا مادّہ تھا، یا آج لوگ اس واقعے سے ان کی عزت کر رہے ہیں۔ جو اللہ کے نام پر اپنی آبرو کو قربان کرتا ہے اور اللہ کو راضی کرنے میں مخلوق سے نہیں ڈرتا اس کی عظمت کے چراغ کو کوئی نہیں بجھا سکتا۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی اَمردوں سے احتیاط حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ سے بڑھ کر کون ہے؟ مجدد الملّت اور وقت کے امام، مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمۃاللہ علیہ اور مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃاللہ علیہ اور بڑے بڑے علما کو اللہ والا بنانے والے، اپنے بھتیجے مولانا شبیر علی صاحب رحمۃاللہ علیہ سے فرماتے ہیں کہ میں جس کمرے میں تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ لکھتا ہوں وہاں تنہائی میں کسی کم عمر لڑکے کو جس کی داڑھی نہ ہو نہ بھیجا کرو، ان سے احتیاط کرنی چاہیے۔ اسی طرح عرب کا ایک لڑکا میرے مدرسے میں پڑھتا تھا، اردو نہیں جانتا تھا، اس سے ہم عربی میں بات کرتے تھے، اس کی داڑھی بھی پوری تھی، ایک مرتبہ وہ میرے ساتھ ٹنڈو جام گیا۔ میں نے سوچا کہ بے چارہ پردیسی ہے، عرب کا رہنے والا ہے، میں نے بعض دوستوں سے کہا کہ اس کا پیر دبا دو، یہ عرب کا ہے اور ہمارا مہمان ہے، تو جب وہ دبانے لگے تو اس نے کہا: کہربا، کہربا ، مت دباؤ مجھے، میرے اندر بجلی ہے۔ یہ جسمانی خدمت اتنی خطرناک چیز ہے۔ تو دیکھو اس عرب نے احتیاط کی اور کہا کہ میرا پیر مت چھوؤ،حالاں کہ دبانے والا بھی پوری داڑھی والا تھا۔ ایک بہت بڑے محدث نے مجھ سے خود بیان کیا کہ ان کے استاد مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی رحمۃاللہ علیہ جو بہت حسین تھے اور میں بھی بلا کا حسین تھا، جب وہ مجھے پڑھاتے تھے تو محبت کی آنکھ سے دیکھنا تو بڑی چیز ہے، کبھی قصائی کی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا،