قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
بے وُقوف ہوجائیں یعنی یہاں وُقوف نہ کریں، موٹر کو نہ روکیں، بے وُقوف ہوجائیں،یہ بے وقوف ہونے کا حکم دے رہا ہے،تو دنیا والے جب آپ کو بے وقوف ہونے کا حکم دیں تو آپ وقوف نہیں کریں، وہاں آپ بے وقوف ہوجائیں، اگر اﷲ کی راہ میں کوئی بے وقوف کہے تو بکنے دو ان کو،یہی اصلی بے وقوف ہیں۔ تو سُبْحَانَ اللہْ بھی پڑھتے رہو، اَلْحَمْدُ لِلہْ بھی پڑھتے رہو اور نماز بھی پڑھ لو یہ اس کا علاج ہوگیا وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ کے بعد کیا ہے؟ وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ 16؎یہ کتے پیچھے لگے رہیں گے، یہ دشمن پیچھے رہیں گے، کب تک؟جب تک کہ آپ کو موت نہ آجائے۔ اور یہ موت اتنی یقینی چیز ہے کہ اس کانام ہی اﷲ تعالیٰ نے یقین رکھ دیا ہے وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ سارے عالم کے علماء سے ترجمہ پوچھ لو، یقین کے معنیٰ موت کے ہیں یعنی موت اتنی یقینی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کا نام یقین نازل کردیا۔ بس موت تک اﷲ کی یاد میں لگے رہو۔ مولانا اشرف علی تھانوی کو ایک شخص نے خط میں گالیاں لکھیں۔ حضرت نے اپنی مجلس میں وہ گالیاں سنادیں کہ تم ہم کو مجدد لکھتے ہو۔ دیکھو! ایک شخص نے ایسی ایسی گالیاں لکھی ہیں،پھر فرمایایہ اللہ تعالیٰ کونین بھیجتا ہے تاکہ بڑائی اور تکبر کا ملیریا نہ چڑھ جائے تو دین کے خادموں کے کچھ دشمن ہوتے ہیں، جب وہ ستاتے ہیں تو نفس بالکل بھیگی بلّی بن جاتا ہے، کونین کا یہ انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، کونین کڑوا ہوتا ہے لیکن ملیریا دور کرتا ہے اس سے تکبر اور عُجب ختم ہوتا ہے، اﷲ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے لیے یہ کونین بھیجتا ہے تاکہ ان کے نفس میں عُجب یا بڑائی نہ آجائے اور اللہ تعالیٰ کے تعلق اور نسبت کا چاند عُجب اور کبر کے بادلوں میں نہ چھپ جائے، اس لیے مخلوق کی ایسی دشمنی اللہ سے دوستی کا ذریعہ ہے۔ خواجہ صاحب کا کتنا پیارا شعر ہے ؎بڑھ گیا ان سے تعلق اور بھی دشمنئ خلق رحمت ہوگئی _____________________________________________ 16؎الحجر:99