Deobandi Books

قرب الہی کی منزلیں

ہم نوٹ :

48 - 58
بے وُقوف ہوجائیں یعنی یہاں وُقوف نہ کریں، موٹر کو نہ روکیں، بے وُقوف ہوجائیں،یہ    بے وقوف ہونے کا حکم دے رہا ہے،تو دنیا والے جب آپ کو بے وقوف ہونے کا حکم دیں تو آپ وقوف نہیں کریں، وہاں آپ بے وقوف ہوجائیں، اگر اﷲ کی راہ میں کوئی بے وقوف کہے تو بکنے دو ان کو،یہی اصلی بے وقوف ہیں۔
 تو سُبْحَانَ اللہْبھی پڑھتے رہو، اَلْحَمْدُ لِلہْبھی پڑھتے رہو اور نماز بھی پڑھ لو یہ اس کا علاج ہوگیاوَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ کے بعد کیا ہے؟وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ16؎یہ کتے پیچھے لگے رہیں گے، یہ دشمن پیچھے رہیں گے، کب تک؟جب تک کہ آپ کو موت نہ آجائے۔ اور یہ موت اتنی یقینی چیز ہے کہ اس کانام ہی اﷲ تعالیٰ نے یقین رکھ دیا ہےوَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ سارے عالم کے علماء سے ترجمہ پوچھ لو، یقین کے معنیٰ موت کے ہیں یعنی موت اتنی یقینی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کا نام یقین نازل کردیا۔ بس موت تک اﷲ کی یاد میں لگے رہو۔
مولانا اشرف علی تھانوی کو ایک شخص نے خط میں گالیاں لکھیں۔ حضرت نے اپنی مجلس میں وہ گالیاں سنادیں کہ تم ہم کو مجدد لکھتے ہو۔ دیکھو! ایک شخص نے ایسی ایسی گالیاں لکھی ہیں،پھر فرمایایہ اللہ تعالیٰ کونین بھیجتا ہے تاکہ بڑائی اور تکبر کا ملیریا نہ چڑھ جائے تو دین کے خادموں کے کچھ دشمن ہوتے ہیں، جب وہ ستاتے ہیں تو نفس بالکل بھیگی بلّی بن جاتا ہے، کونین کا یہ انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، کونین کڑوا ہوتا ہے لیکن ملیریا دور کرتا ہے اس سے تکبر اور عُجب ختم ہوتا ہے، اﷲ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے لیے یہ کونین بھیجتا ہے تاکہ ان کے نفس میں عُجب یا بڑائی نہ آجائے اور اللہ تعالیٰ کے تعلق اور نسبت کا چاند عُجب اور کبر کے بادلوں میں نہ چھپ جائے، اس لیے مخلوق کی ایسی دشمنی اللہ سے دوستی کا ذریعہ ہے۔ خواجہ صاحب کا کتنا پیارا شعر ہے؎
بڑھ  گیا  ان   سے  تعلق  اور   بھی
دشمنئ     خلق      رحمت      ہوگئی
_____________________________________________
16؎   الحجر:99
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 قرآنِ پاک سے تصوف کا ثبوت 7 1
3 حیا کی تعریف 8 1
4 اﷲ تک پہنچنے کا مختصر راستہ 9 1
5 مقصدِ حیات 10 1
6 شیطان دھوکے باز تاجر ہے 11 1
7 روحانی بلڈ پریشر 12 1
8 دل کے سمندر میں طغیانی کب آتی ہے؟ 12 1
9 کلمہ کی بنیاد کیا ہے؟ 14 1
10 عشقِ مجازی دونوں جہاں کی بربادی ہے 14 1
11 جنت میں مسلمان عورتوں کی شانِ حُسن 15 1
12 عطائے مولیٰ کی قدر و قیمت 16 1
13 بیویوں سے حسنِ سلوک 17 1
14 ولی اﷲ بننے کا طریقہ 20 1
15 عشقِ مجازی کی بربادیاں 21 1
16 مجدِّدِ ملّت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا تقویٰ 23 1
17 نفس پر کبھی بھروسہ نہ کریں 23 1
18 خواجہ صاحب کی فنائیت 24 1
19 علامتِ ولایت 25 1
20 خدا کے عاشقوں کا عالم 26 1
21 زندگی ایک ہی دفعہ ملی ہے 27 1
22 اﷲ تعالیٰ سے کیسی محبت کریں؟ 27 1
23 بے لذت ذکر سے بھی نسبت عطا ہوجاتی ہے 28 1
24 ذکر میں اعتدال ضروری ہے 29 1
25 اصلاح زندہ شیخ سے ہوتی ہے 30 1
26 اہل اﷲ کے روحانی مراتب 31 1
27 اللہ کی محبت کا درد کب ملتا ہے؟ 32 1
28 عاشقانہ ذکر کا ثبوت 34 1
29 قرآنِ پاک سے ذکرِ اسمِ ذات کا ثبوت 35 1
30 محبت انگیز ذکر کا نفع 36 1
31 حدیثِ پاک سے ذکرِ اسمِ ذات کا ثبوت 37 1
32 تبتل کی حقیقت 38 1
33 قرآنِ پاک سے ذکرِ نفی اثبات کا ثبوت 41 1
34 لَااِلٰہَ اِلَّا اللہْ کی فضیلت 42 1
35 تصوّف کے مسئلۂ توکّل کا ثبوت 42 1
36 نماز میں خشوع کی تعریف 43 1
37 توکّل کا طریقہ 44 1
38 دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کی تلقین 45 1
39 آیت یَضِیْقُ صَدْرُکَ … پر ایک الہامی علمِ عظیم 46 1
40 سلوک کے آخری اسباق ابتدا میں کیوں نازل کیے گئے؟ 50 1
Flag Counter