قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
بڑے مالک کا نام لینے کی توفیق مل گئی؟ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ مزہ آئے نہ آئے ذکر پورا کرو۔ حکیم الامت کا جملہ نقل کرتا ہوں کہ جس سالک کو، اللہ اللہ کرنے والے کو ذکر میں کچھ مزہ نہ آئے،مگر ذکر کرتا رہے، تو بے لذت ذکر سے بھی اس کو نسبت مع اللہ عطا ہوجاتی ہے اور قلب کو صحت نصیب ہوجاتی ہے یعنی بیمار دل چنگا بھلاہو جاتا ہے، تندرست ہوجاتا ہے، چاہے مزہ آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ مزہ آیا تو آپ نے اللہ کا نام لیا اور مزہ نہ آیا تو اللہ کا نام لینا چھوڑ دیا،تو بتائیے! آپ مزے کے غلام ہیں یا اﷲ کے؟ عبداللّطف ہیں یا عبد اللّطیف ہیں؟یہ شیطان کی بہت خطرناک سازش ہے، وہ پٹی پڑھاتا ہے کہ ذکر میں مزہ نہیں آرہا ہے لہٰذا ذکر چھوڑ دو، لیکن آپ اس کے کہنے میں نہ آئیں۔ ہمارے بزرگوں نے ہمیں جتنا ذکر بتایا ہے اس میں ناغہ مت کرو، جو ناغہ کرتا ہے فاقہ کرتا ہے۔ ذکر کا ناغہ روح کا فاقہ ہے۔اگر بیمار ہو تو آدھا ہی پڑھ لو، ورنہ جتنی ہمت ہو اتنا کر لو اور نفس سے کہہ دو کہ اگر آج تو نے ذکر نہیں کیا تو تجھے فاقہ کراؤں گا۔ روٹی نہیں چھوڑی تو روٹی دینے والے کا نام کیسے چھوڑوں؟ ذکر میں اعتدال ضروری ہے اللہ کا نام تو ایسا ہے کہ ہر وقت لیتے رہو، مگر اس زمانے میں چوں کہ اعصاب کمزور ہوگئے، لہٰذا اتنا زیادہ ذکر بھی مت کرو کہ پاگل ہو جاؤ، اپنے شیخ سے مشورہ کرتے رہو۔ ایک صاحب کی اسّی سال عمر تھی، انہوں نے ہر وقت ذکر کرنا شروع کردیا، رات بھر جاگتے تھے، صرف دو تین گھنٹے سوتے تھے،نتیجہ یہ نکلا کہ بلڈ پریشر ہائی ہوگیا، چکر آنے لگے۔ حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اصلاحی تعلق تھا، ان کے انتقال کے بعد اختر سے رجوع ہوئے۔ میں نے کہاآپ ذکر ملتوی کردیں اور خوب سوئیں، کم از کم چھ گھنٹے نیند ضرورپوری کریں ورنہ آپ اور زیادہ بیمار ہو جائیں گے، اگر شیخ کی بات مانتے ہیں تو مجھ سے تعلق رکھیں ورنہ دوسرا پیر تلاش کرلیں۔ کہنے لگے آپ کی ہر بات مانوں گا۔ میں نے کہا آپ عشاء کے فرض کے بعد دو سنت پڑھ کر وتر سے پہلے دو رکعت نفل پڑھ لیں، ان شاء اﷲ قیامت کے دن تہجد گزاروں میں اٹھائے جائیں گے۔ اگر وتر سے پہلے دو رکعت پڑھنا بھول گئے تو وتر کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں،لیکن افضل یہی ہے کہ وتر سے پہلے پڑھ لیں، ان دو رکعات میں نمازِ توبہ