قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
اور جگر صاحب فرماتے ہیں ؎میرا کمالِ عشق بس اتنا ہے اے جگر وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا جب تعلق مع اﷲ غالب ہوجائے گا تو ہم زمانے پر غالب ہو جائیں گے، پھر دنیا بھر کی گمراہ کن ایجنسیاں ہمیں مغلوب نہیں کرسکیں گی۔کہیں مرنے والوں پر مرنے والے بھی زمانے پر چھا سکتے ہیں؟ جس وقت کوئی بدنظری کرتا ہے اس وقت اس کی شکل دیکھو، شیطان کی سی معلوم ہوتی ہے، اس کی شکل پر لعنتیں برستی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو بد نظری میں مبتلا ہوتا ہے اللہ اس پر لعنت برساتا ہے، اگر آپ اس کی شکل کو دیکھیں گے تو بے وقوف اور انٹر نیشنل الّو معلوم ہوگا۔ جس چہرے پر خدا کی لعنت برسے گی بھلا اس چہرے پر چمک دمک رہے گی؟ قرآنِ پاک سے ذکرِ اسمِ ذات کا ثبوت تو علامہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ میں کہ اپنے رب کانام لیجیے۔ کیا اس میں اسمِ ذات کا ذکر موجود نہیں ہے؟ کیا تصوف کا یہ مسئلہ قرآنِ پاک سے ثابت نہیں؟ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ اپنے رب کا نام لیجیے، اِسْم کے معنیٰ ہیں نام یعنی اﷲ کا نام لینا،چناں چہ اَللہ اَللہ کرنا اسی آیت سے ثابت ہے۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے اﷲ پر جل جلالہٗ کہنا واجب ہے۔ یہ مسئلہ بہشتی زیور میں بھی ہے۔ حکیم الامت مجددِ زمانہ ہمارے دادا پیر رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ یہاں رب کا لفظ کیوں نازل فرمایا؟یہ تو نہیں فرمایا کہ اللہ اللہ کرو ، بلکہ فرمایا کہ اپنے رب کا نام لیا کرو، تو فرمایا کہ ر ب اس لیے نازل کیا کہ اﷲ کا نام عاشقانہ لینا جیسے اپنے ماں باپ کانام محبت سے لیتے ہو، کیوں کہ وہ بظاہر پالنے والے ہوتے ہیں،حالاں کہ اصل پالنے والے تو اﷲ تعالیٰ ہیں، لہٰذا بعض یتیموں کو اﷲ نے ایسا پالا کہ ماں باپ والے ان پر رشک کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی یتیمی کو اﷲ تعالیٰ نے ایسا نوازا کہ سارے عالم کے ماں باپ والے رشک کرتے ہیں۔ میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ یہ شعر پڑھتے تھے ؎