قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
ان کے چہرے پہ کھچڑی داڑھی کا ایک دن تم تماشا دیکھو گے میر اس دن جنازہ اُلفت کا اپنے ہاتھوں سے دفن کر دو گے مجدِّدِ ملّت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا تقویٰ واللہ! کہتا ہوں کہ کتنے صوفیوں کو حسن کے چکر نے غارت کردیا۔ حکیم الامت کے بھتیجے مولانا شبیر علی نے ایک طالبِ علم کو حضرت کے پاس کسی کام سے بھیجا، حضرت اس وقت تنہا بیٹھے باوضو بیانُ القرآن لکھ رہے تھے، فوراً نیچے اُتر آئے، اس لڑکے کے ساتھ ایک لمحہ بھی خلوت نہیں کی اور مولوی شبیر علی صاحب سے فرمایا کہ میری تنہائیوں میں بے داڑھی مونچھ کے لڑکوں کو مت بھیجا کرو اور پھر فرمایا کہ جو مجھ کو حکیم الامت سمجھتے ہیں اس واقعے سے سبق لیں۔ نفس پر کبھی بھروسہ نہ کریں اپنے ایمان پر بھروسہ کرنے والوں کا حشر میں دیکھ چکا ہوں،جنہوں نے اپنے تقوے، اپنی سفید داڑھی اور اپنی آہ وزاری پر بھروسہ کیا اور نفس کو ڈھیل دے دی ان کا ایمان خطرے میں پڑگیا۔ دعاؤں میں بعض لوگ بہت روتے ہیں، لیکن رونے کے بعد منہ کالا کر لیتے ہیں، اس لیے مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎گر بگرید ور بنالد زار زار ایں نہ خواہد شد مسلماں ہوش دار اگر تمہارا نفس بہت روئے زار زار نالہ کرے تو یاد رکھو! نفس کبھی مسلمان نہیں ہوگا، یاد رکھو یہ نفس دشمن ہے ؎نفس فرعون است ہیں سیرش مکن نفس کا مزاج فرعون جیسا ہے، اگر تم نے اس کو گناہوں کا مزہ چکھایا تو تمہیں اور گناہ گار بنائے