قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
یتیمے کہ ناکردہ قرآں درست کتب خانہ صد ملت بشست وہ یتیم بچہ جس پر قرآ نِ پاک ابھی پورا نازل نہیں ہوا، صرف چند آیتیں نازل ہوئی ہیں، مگر سارے عالم کے کتب خانے منسوخ ہوگئے، توریت منسوخ، زبور منسوخ، انجیل منسوخ، حالاں کہ ابھی قرآنِ پاک مکمل نازل نہیں ہوا۔ اﷲ تعالیٰ کا سایہ ٔ رحمت جس کے سر پر ہو کوئی اس کو کیا پاسکتا ہے، ماں باپ ہمارے ربّ العالمین نہیں ہیں، مولیٰ ہیں، پالنے والے ہیں مگر علیٰ سبیل التولیۃ متولی ہیں، اصل پالنے والا اﷲ ہے، تو رب کا لفظ اس لیے نازل فرمایا کہ اپنے اﷲ کا جب نام لو، جب تسبیح اٹھاؤ تو بے دلی سے ان کا نام نہ لو۔ محبت انگیز ذکر کا نفع مولانا رومی فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اﷲاﷲ کہتے ہیں، مگر ان کو پتا نہیں ہوتا کہ وہ کس کا نام لے رہے ہیں ؎آں می خوانند ہر دم نامِ پاک ایں اثر نکند چوں نہ بود عشق ناک مولانا رومی نے عشق ناک فرمایا ہے، ذکر عشق ناک ہونا چاہیے،یہ دنیا میں اس لفظ کا پہلا استعمال ہے۔ مولانا جلال الدین رومی نے اس لغت کو وضع کیا ہے، غمناک، درد ناک، افسوس ناک، وحشت ناک اور عبرت ناک وغیرہ تو آپ نے سنا ہوگا مگر عشق ناک سنا تھا کبھی؟ مولانا رومی نے مثنوی میں ا س لفظ کو ایجاد فرمایا۔ ناک کے معنیٰ ہیں بھرا ہوا، دردناک یعنی درد سے بھرا ہوا، عبرت ناک عبرت سے بھرا ہوا، افسوس ناک افسوس سے بھرا ہوا، غم ناک غم سے بھرا ہوا اور عشق ناک عشق سے بھرا ہوا، تو عشق سے بھرا ہوا ذکر کرو، جب اﷲ اﷲ کرو تو مولانا رومی کا یہ شعر بھی بیچ میں پڑھ لیا کرو ؎اﷲاﷲ ایں چہ شیریں است نام شیر و شکر می شود جانم تمام