ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2015 |
اكستان |
|
'آزادی ٔ رائے ''کا نام دے کر نبی کے تقدس کو چٹکی میں اُڑادیں ، یہ شرابی کیا جانیں کہ'' عزت'' کیا چیز ہوتی ہے ''تقدس'' کس کو کہتے ہیں ''ناموس'' کے کیا معنی ہیں، ایسے بازاری بھوت جو لاتوں کے عادی ہوں باتوں سے کب مانیں ہیں۔ صد اَفسوس عالمِ اِسلام کے حکمرانوں پر جنہوں نے حضرت محمد ۖ کے پاک دامن کو گستاخانہ خاکوں سے آلودہ کرنے والے لاتوں کے بھوتوں کو باتوں کا بھوت سمجھ لیا، ڈوری کسنے کے بجائے ڈھیلی کردی اور اپنی بز دِلی کو سنجیدگی کا نام دے کر اِن بازاری یہودیوں اور عیسائیوں کو مزید سینہ پھلانے کا موقع فراہم کردیا۔ خدا بھلا کرے اُن فرانسیسی مسلمانوں کا جنہوں نے اِیمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبی علیہ السلام کو'' تصویری گالیاں'' دینے والے بین الاقوامی گروہ کو جہنم واصل کرکے پوری اُمت کا قرض چکا دیا ۔مسلم حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ اُن جانباز جوانوں کی ہر سطح پر اِمداد واِعانت کریں اور عالمِ کفر کو خبردار کردیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ۖ کی ناموس پر اُنگلی اُٹھانے والوں کا آئندہ بھی یہی حشر ہوگا۔ شراب نوش خنزیرخور، لوفروں کو ڈھیل دے کر نظر اَنداز کردینا برداشت، تحمل یابرد باری نہیں بلکہ بے غیرتی ہوتی ہے ،غیرت مند قومیں غیرت اور بے غیرتی کے درمیان لکیر سے بخوبی واقف ہیں اور نبیوں کے مقدس ایوانوں کے آداب سے آشنا اور اُن کی رکھوالی ہیں، حدیث شریف میں اِسی قسم کے چند واقعات آتے ہیں جس پر صحابہ کرام نے اُن گستاخون کو قتل کردیا۔ ٭ فتح مکہ کے موقع پر عبداللہ بن سعد قتل کے خو ف سے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُن کو آپ کی خدمت میں لائے اور آپ کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اِن کو بیعت فرمالیں،آپ نے اُن کی طرف سر اُٹھا کر تین بار دیکھا اور ہر بار اِنکار فرماد یا،تین دفعہ کے بعد آپ نے بیعت فرمالیا ۔پھر بعد میں آپ اپنے اَصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں کوئی سیانہ آدمی نہیں تھا جبکہ وہ مجھے دیکھ رہا تھا کہ میںاُس کی بیعت سے