( کتاب المفقود )
]١٦٥٠[(١)اذا غاب الرجل فلم یعرف لہ موضع ولا یعلم ا حی ھو ام میت نصب القاضی من یحفظ مالہ ویقوم علیہ]١٦٥١[(٢) ویستوفی حقوقہ]١٦٥٢[(٣) وینفق
( کتاب المفقود )
ضروری نوٹ کوئی آدمی گھر سے بالکل غائب ہو جائے تو اس کو مفقود کہتے ہیں۔ اس کی بیوی اور اس کے مال کے کیا احکام ہیں اس کے بارے میں اس باب میں بیان ہے۔اس کا ثبوت اس حدیث میں ہے۔عن المغیرة بن شعبة قال قال رسول اللہ امرأة المفقود امرأتہ حتی یأتیھا الخبر (الف) (دار قطنی ، کتب النکاح ج ثالث ص ٢١٧ نمبر ٣٨٠٤ سنن للبیہقی ، باب من قال امرأة المفقودامرأتہ حتی یأتیھا یقین وفاتہ، ج سابع، ص ٧٣١،نمبر١٥٥٦٥) اس حدیث سے مفقود کا ثبوت بھی ہوا اور اس کا حکم بھی معلوم ہواکہ موت کے یقین ہونے سے پہلے وہ مفقود کی بیوی ہے۔
]١٦٥٠[(١)اگر آدمی غائب ہو جائے اور اس کی کوئی جگہ معلوم نہ ہو، اور نہ معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے یا مردہ تو متعین کرے گا قاضی کسی شخص کو جو اس کے مال کی حفاظت کرے اور انتظام رکھے۔
تشریح کوئی آدمی اس طرح غائب ہو گیا کہ اس کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہے اور نہ یہ معلوم ہے کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا ہے تو اب قاضی کسی آدمی کو متعین کرے تاکہ وہ اس کے مال کی حفاظت کرے اور اس کی نگرانی کرے اور اس کے مال کا انتظام کرے ۔
وجہ ایسے آدمی کے لئے قاضی ہی منتظم ہوتا ہے ۔اس لئے قاضی ہی کسی آدمی کو متعین کرے گا تاکہ اس کے مال کی حفاظت کرے۔
]١٦٥١[(٢)اس کے لئے حقوق وصول کرے۔
تشریح مفقود کا کسی پر قرض ہو یا کوئی حق ہو تو متعین کردہ آدمی وہ قرض وصول کرے گا اور دیگر حقوق بھی وصول کرے گا اور ان کو مفقود کے لئے محفوظ رکھے گا۔
]١٦٥٢[(٣) اور خرچ کرے گا اس کی بیوی پر اور اس کے چھوٹے بچوں پر اس کے مال میں سے۔
تشریح مفقود کا جو مال ہے وہ مال اس کی بیوی اور اس کے چھوٹی اولاد پر وصی خرچ کرے گا۔
وجہ اس لئے کہ بیوی مفقود کے لئے محبوس ہے۔اور چھوٹی اولاد کا خرچ بھی ابھی اس کے ذمے ہے۔اس لئے ان لوگوں پر مفقود کے مال سے خرچ کیا جائے گا (٢) اثر میں ہے۔عن ابن عباس وابن عمر قالا جمیعا فی امرأة المفقود تنتظر اربع سنین قال ابن عمر ینفق علیھا فیھا من مال زوجھا لانھا حسبت نفسھا علیہ (ب) ( مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل یغیب عن امرأتہ فلا ینفق علیھا،
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا مفقود کی بیوی اس کی بیوی رہے گی جب تک واضح خبر نہ آجائے(ب) عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ بن عمر نے فرمایا مفقود کی عورت چار سال تک انتظار کرے۔ابن عمر نے فرمایا اس پر خرچ کیا جائے گا اس کے شوہر کے مال سے۔اس لئے کہ اپنے آپ کو اس کے لئے محبوس کیا ہے۔